
سمجھ آئے تو ۔۔۔ میلاد مبارک ہو
1۔ میلاد لفظ عوام کو کنفیوزڈ کر رہا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ ہم میلاد مناتے ہیں حالانکہ یہ کہنا چاہئے کہ ہم حضورﷺ کا ذکرکرتے، نعتیں پڑھتے اور آپ پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔
2۔ روزہ رکھنا میلاد نہیں بلکہ روزہ رکھ کر، نفل پڑھ کر، قرآن خوانی کر کے، درود و سلام حضورﷺ کو ہدیہ تحفہ بھیجنا میلاد ہے۔
3۔ میلاد میں کھانا کھلانا شرط میں شامل نہیں ہے بس حضورﷺ کا ذکر اور حضورﷺ کو نیک اعمال کر کے تحفہ بھیجنا میلاد ہے۔ کھلائیں یا نہ کھلائیں کوئی ضروری نہیں ہے۔ جھنڈیاں یا جھنڈے، جلوس، کیک کاٹنے وغیرہ میلاد نہیں۔ کعبے کی شبیہ بنا کر طواف کرنا منع اور پہاڑیاں سجانا منع ہے۔
4۔میلاد کا تعلق تاریخ پیدائش، تاریخ وفات، 12 ربیع الاول سے ہر گز نہیں ہے کیونکہ یہ خوشی دائمی خوشی ہے، اسلئے حضورﷺ کا ذکر کرنا، آپ ﷺ کو ہدیہ تحفہ بھیجنا ہر وقت، دن و رات، ہر مہینے اور سال کے 365دن جائز ہے۔
5۔ عید میلاد النبیﷺ کا لفظ غلط ہے کیونکہ اس سے رافضیوں سے مشابہت ہے جو عید غدیر خم، عید مباہلہ مناتے ہیں۔اہلتشیع دھرم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
6۔ دوسرا پورا ہفتہ جشن ولادت اسلئے منایا جا رہا ہے کیونکہ اہلتشیع کے نزدیک میلاد کی تاریخ 12نہیں بلکہ 17ربیع الاول ہے اسلئے نام نہاد بریلوی جماعتیں اہلتشیع کے ساتھ ”ہفتہ وحدت“ مناتے ہوئے پورا ہفتہ میلاد منانے کا اعلان کرتے ہیں۔
7۔ سعودی عرب کے وہابی علماء نے خلافت عثمانیہ، چار مصلے والوں کو بدعتی و مشرک کہا، اسلئے ان کے نزدیک میلاد بدعت ہے۔ دیوبندی اور بریلوی میلاد منانے والے تھے مگر اب دیوبندی سیرت النبی کانفرنس کرتے ہیں مگر میلاد کا نام نہیں لیتے، اگر ذکر ولادت کریں گے تو اہلسنت اکٹھے ہوں گے۔
8۔ اہلسنت کے مستحب اعمال (عرس، ایصالِ ثواب، میلاد) پر سیاست ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کے وہابی علماء اس کو بدعت کہیں گے اور ایران کے اہلتشیع حضرات نام نہاد اہلسنت کے ساتھ ملکر مستحب اعمال کو بنیاد بنا کر اہلسنت بننے کی کوشش کریں گے مگر توبہ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہو گا۔
9۔ ایمانی جذبہ یہی کہتا ہے کہ میلاد پر اعلان کیا جائے کہ اہلسنت صرف اور صرف خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اہلسنت علماء کرام مقلد (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) ہیں۔ دیوبندی اور بریلوی نام غلط ہیں بلکہ بریلوی کا دیوبندی سے مطالبہ ہے کہ دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں کو آج کے دیوبندی علماء جو کفریہ نہیں مانتے، وہ توبہ کریں۔
10۔ مذہب کو سیاست کے طور پر استعمال کر کے ایران اور سعودی عرب اپنی مذہبی پوزیشن کو جائز بنانا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کوئی اپنی پہچان بتائے ورنہ عام عوام کو گمراہ کرنے کی ذمہ دار سب جماعتیں ہیں۔
11۔ حضورﷺ کی حکمت و دانائی سے فیض لے کر مسلمانوں کو ایک کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری میں شامل ہے اور ”میلاد“ کو ”اتحاد“ کا ذریعہ بنائیں ورنہ قیامت کا انتظار کریں۔