
بنو امیہ دور (خلافت یا بادشاہت)
1۔ عیسوی سال حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور سورج کے گرد گھومتا ہے۔ ھجری سال حضورﷺ کی ہجرت کے وقت سے شروع کیا گیا اور یہ 12مہینے چاند کے گرد گھومتا ہے۔ حضورﷺ اور چاروں خلفاء کرام کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صُلح اور بیعت کے بعد خلافت ملی جس کو ملوکیت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔آپ کی خلافت 41 ھ سے 61ھ (661 ء سے680 ء) 20 سال تک رہی۔ اُس کے بعد اموی خلفاء کی حکومت کی ترتیب:
2۔یزید بن معاویہ نے تین سال 61 ھ سے 64 ھ
3۔ معاویہ بن یزید یعنی یزیدکے بیٹے نے چھ ماہ حکومت کی ہو گی جو 64ھ میں ہی ختم ہو گی۔
4۔ مروان بن حکم نے ایک سال 64 ھ سے 65ھ
5۔ عبدالملک بن مروان نے 21 سال 65 ھ سے 86 ھ
6۔ ولید بن عبدالملک نے 10سال86 ھ سے 96 ھ
7۔ سلیمان بن عبدالملک نے تین سال 96 ھ سے 99 ھ
8۔ حضرت عمر بن عبدالزیز رحمتہ اللہ علیہ نے تین سال 99 ھ سے 101ھ
9۔ یزید بن عبدالملک نے چار سال 101ھ سے 105ھ
10۔ ہشام بن عبدالملک نے بیس سال 105ھ سے 125ھ
11۔ ولید بن یزید نے ایک سال 125ھ سے126ھ
12۔ ولید بن عبدالملک نے چند ماہ 126ھ تک
13۔ ابراہیم بن الولید نے ایک سال 126ھ سے127ھ
14۔ مروان بن محمد نے پانچ سال127ھ سے 132ھ
تجزیاتی رپورٹ
1۔ قتل و غارت، گناہ اور سرکشی یہ انسانی زندگی کا حصہ ہے اور تمام انبیاء کرام، اولیاء کرام کی تبلیغ کے باوجود انبیاء کرام، ائمہ کرام اور اولیاء کرام شہید ہوئے۔اموی دور 100سال (41ھ سے 132ھ) پر محیط ہے جس میں سیاست، ریاست اور طاقت اپنا اپنا کام کرتی رہی۔ اہلبیت کو شہید بھی کیا گیا اور آپس میں نکاح بھی ہوتے رہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی مگراموی حکومت کے گورنر حجاج ابن یوسف کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
2۔ اگر اموی دور میں اسلام نہیں تھا تو پھر اسلام پھیلا کیسے؟ اس دور میں آپس میں یا مسلمان کافروں سے لڑتے بھی رہے، اچھے بُرے فیصلے کرتے رہے لیکن قرآن و سنت کسی نے تبدیل نہیں کیا حالانکہ قرآن و سنت پر عمل نہ کرنے پر ہرحکومت کرنے والے خلیفہ کی باز پُرس اللہ کریم فرمائے گا۔
3۔یہ سب فقہاء حضرت نعمان بن ثابت (امام ابو حنیفہ80 ھ – 150ھ)، حضرت مالک بن انس (امام مالک 93 ھ – 179 ھ)، حضرت محمد بن ادریس (امام شافعی 150ھ – 204 ھ)، حضرت احمد بن محمد حنبل (امام حنبل 165ھ – 241ھ) رحمتہ اللہ علیھم بنو عباس کے دور میں وفات پائے۔
4۔ بنو امیہ دور میں کوئی احادیث نہیں گھڑی گئیں کیونکہ یہ سب محدثین امام محمد بن اسماعیل بخاری (194 – 256ھ)، امام مسلم بن حجاج (204 -261 ھ)، امام ابو داؤد سیلمان بن الاشعث (202 – 275 ھ)، امام محمد بن عیسی (229 – 279 ھ) جامع ترمذی، امام محمد بن یزید (209 – 273 ھ) ابن ماجہ، امام احمد بن شعیب (215 – 303ھ) نسائی بنو عباس دور کے ہیں۔
5۔ اہلتشیع کی احادیث، علماء، کتابیں، نہج البلاغہ، فقہ جعفر یہ سب بے بنیاد ہیں۔ تاریخی حوالہ جات پر عقائد نہیں بنتے، اہلتشلیع سازشی سبائی گروپ ہے جو بنو امیہ کی آڑ میں اسلام کی نقصان پہنچا رہا ہے۔
6۔ خلافت عثمانیہ، چار مصلے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے قرآن و سنت کے مطابق توحید، رسالت، انبیاء کرام، فرشتے، اہلبیت و صحابہ کرام، عشرہ مبشرہ و چاروں خلفاء کرام، امامت ابوبکر رضی اللہ عنہ، مشاجرات صحابہ، ضروریات دین اور شریعت و طریقت کے دفاع کیلئے قانون سازی کی۔اسلئے صحابی رسول امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دفاع ہے مگر یزید و مروان یا کسی اور کا ہرگز دفاع نہیں ہے۔
7۔ سعودی عرب کے وہابی علماء نے چار مصلے والوں کو بدعتی و مشرک کہا۔ اہلسنت علماء حرمین شریفین کی وجہ سے دیوار کے ساتھ لگے اور کچھ دیوار سے پرے ایرانی رافضی و اہلتشیع کے لئے کام کرنے لگے کیونکہ سعودی عرب نے راستہ نہیں دیا۔بریلوی اور دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں پر توبہ کا مطالبہ بریلوی اہلسنت کا تھا ورنہ عقائد ایک تھے، دونوں کو بدعتی و مشرک سعودی عرب نے کہا۔ سب خاموشی کی وجہ سیاست، ریاست، طاقت، بے حسی ہے جس کا مذہب کو نقصان ہے۔