
خلافت عثمانیہ
1۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے بعد تیسری بڑی مسلمانوں کی خلافت جس نے تین براعظم پر حکومت کی وہ ارطغرل کے بیٹے عثمان غازی کی تھی۔ بنو عباس کا ہلاکو خان نے خاتمہ کیا اور شاہ بیبرس نے اپنے دور میں ہلاکو خان کو گیدڑ کُوٹ لگا کر بھگا دیا اور ایک عباسی خلیفہ کی بیعت بھی کر لی لیکن اصل اختیارشاہ بیبرس یعنی مملوکوں کے پاس تھے۔ شاہ بیبرس نے اہنے دور میں چار ائمہ کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)کے چار قاضی مقرر کئے۔ اس کے بعد سلطنت عثمانیہ نے ساری دنیا کو ایک اہلسنت بنا کر علماء، محدثین، فقہاء کرام، مفسرین، صوفیاء اور اولیاء کرام کو عزت بخشی۔ خلافت عثمانیہ کے یہ خلیفہ رہے ہیں:
1- سلطان عثمان غازی ولد ارطغرل غازی (1299 – 1323ء) (699 – 723ھ)
2- سلطان اورخان غازی ولد سلطان عثمان غازی (1323 – 1369ء) (723 – 770ھ)
3- سلطان مراد اول ولد سلطان اورخان اول (1369 – 1389ء) (770 – 791ھ)
4- سلطان بایزید اول(یلدرم) ولد سلطان مراد اول (1389 – 1402) (791 – 804ھ)
نوٹ: 1402ء میں جنگِ انقرہ ہوئی جو امیر تیمور اور بایزید یلدرم کے درمیان لڑی گئی، سلطان بایزید کو شکست ہوئی اور یہ گرفتار ہو کر قید ہوئے، بعد میں قید کے دوران ہی فوت ہوئے، یوں سلطنت ایک بار ختم ہو گئی، اور کئی سال 1413 تک بایزید کے بیٹوں میں خانہ جنگی چلتی رہی، پھر سب سے چھوٹے بیٹے محمد چلپی نے سلطنت پر مکمل قبضہ کیا یوں یہ دوبارہ شروع ہوئی-
5- سلطان محمد اول ولدسلطان بایزید اول ( 1413 – 1421ء) (816 – 824ھ)
6- سلطان مراد دوم ولد سلطان محمد اول (1421 – 1444ء دوسرا دورِ: 1446 – 1451ء) (824 – 848 / 850 – 854)
7- سلطان محمد فاتح ولد سلطان مراد دوم ( 1451 – 1481ء) (854 – 886ھ)
8- سلطان بایزید دوم، ولد سلطان محمد دوم (1481 – 1512ء) (886 – 918ھ)
9- سلطان سلیم اول ولد سلطان بایزید دوم (1512 – 1520ء) (918 – 926ھ)
10- سلطان سلیمان اول (القانونی) ولد سلطان سلیم اول (1520 – 1566ء) (926 – 974)
11- سلطان سلیم دوم ولد سلطان سلیمان(1566- 1574ء) (974 – 982ھ)
12- سلطان مراد سوم ولد: سلطان سلیم دوم (1574 – 1595ء) (982 – 1003ھ)
13- سلطان محمد سوم ولد سلطان مراد سوم (1595 – 1603ء) 1003 – 1012ھ)
14- سلطان احمد اول ولد سلطان محمد سوم (1603 – 1617ء) (1012 – 1026ھ)
15- سلطان مصطفی اول ولد سلطان محمد سوم (1617 – 1618ء دوسرا دورِ: 1622 – 1623ء) (1026 -1027 / 1031 – 1032ھ)
16- سلطان عثمان دوم ولد سلطان احمد اول (1618 – 1622ء) (1027 – 1031ھ)
17- سلطان مراد چہارم ولد سلطان احمد اول (1623 – 1640ء) (1032 – 1049ھ)
18- سلطان ابراہیم اول ولد سلطان احمد اول (1640 – 1648ء) (1049 – 1058ھ)
19- سلطان محمد رابع ولد سلطان ابراہیم اول(1648 – 1687ء) (1058 – 1099ھ)
20- سلطان سلیمان دوم ولد سلطان ابراہیم اول (1687 – 1691ء) (1099 – 1102ھ)
21- سلطان احمد دوم ولد سلطان ابراہیم اول (1691- 1695ء) (1102 – 1106ھ)
22- سلطان مصطفی دوم ولد سلطان محمد چہارم (1695 – 1703ء) (1106 – 1115ھ)
23- سلطان احمد سوم ولد سلطان محمد چہارم (1703 – 1730ء) (115 – 1143ھ)
24- سلطان محمود اول ولد سلطان مصطفی دوم (1730 – 1754ء) (1143 – 1168ھ)
25- سلطان عثمان سوم ولد سلطان مصطفی دوم (1754 – 1757ء) (1168 – 1171ھ)
26- سلطان مصطفی سوم ولد سلطان احمد سوم (1757 – 1774ء) (1171 – 1188ھ)
27- سلطان عبدالحمید اول ولد سلطان احمد سوم (1774 – 1789ء) (1188 – 1203ھ)
28- سلطان سلیم سوم ولدسلطان مصطفی سوم (1789 – 1807ء) (1203 – 1222ھ)
29- سلطان مصطفی چہارم ولد سلطان عبدالحمید اول (1807 – 1808ء) (1222 – 1223ھ)
30- سلطان محمود دوم ولد سلطان عبدالحمید اول (1808- 1839ء) (1223 – 1255ھ)
31- سلطان عبدالمجید اول ولد سلطان محمود دوم (1839 – 1861ء) (1255 – 1277ھ)
32- سلطان عبدالعزیز ولد سلطان محمود دوم (1861 – 1876ء) (1277 – 1293ھ)
33- سلطان مراد پنجم ولد سلطان عبدالمجید اول (93 دن)
34- سلطان عبدالحمید دوم ولد سلطان عبدالمجید اول (1876 – 1909ء) (1293 – 1327ھ)
35- سلطان محمد پنجم ولد سلطان عبدالمجید اول (1909 – 1918ء) (1327 – 1336ھ)
36- سلطان محمد وحید الدین ششم ولد سلطان عبدالمجید اول (3 جولائی تا 1 نومبر 1922ء)
نوٹ: یہاں عثمانی سلطنت ختم ہو گئی، ترکی ایک علیحدہ ملک بنا، مصطفی کمال کی حکومت شروع ہوئی لیکن عبدالمجید دوم کو اسلام کے خلیفہ کے طور پر رکھا گیا اور دو سال بعد اس خلافت کو بھی ختم کر دیا گیا-
37- سلطان عبدالمجید دوم ولد سلطان عبدالعزیز (19 نومبر 1922 – 3 مارچ 1924ء) (1341 – 1342ھ)
تجزیاتی رپورٹ
1۔ترک مسلمان خلفاء علماء اور صوفیوں کو عزت دینے والے تھے۔ اسلئے حکومت وقت نے چار ائمہ کرام کی سفارشات پر تقلید کا قانون منظور کر کے چار مصلے خانہ کعبہ میں رکھے کیونکہ چاروں قرآن و سنت کے مطابق تھے۔ دوسرا شریعت و طریقت کا قانون منظور کر کے ہر واردات، کیفیات کو شریعت کے مطابق قبول ورنہ رد کیا۔
2۔ یورپ کو خلافت عثمانیہ سے کافی مار پڑی تھی، اسلئے بدلہ لینے کے لئے انہوں نے بھی سوچ بچار کر کے 100سال کے لئے ”خلافت“ لفظ مسلمانوں پر حرام کر دیا۔ ترکی کو یہ سزا دی گئی کہ خلیفہ کی جائیداد قرق کر لی، خلیفہ کو اس کے ملک سے جلا وطن کیا گیا، اسلام کی بجائے سیکولر ملک بنانے پر ترکی کو پابندکیا، ترکی اپنے ملک سے تیل گیس نہیں نکالے گا، اپنے دریا و سمندر سے یورپ کے جہاز گذرنے پر راہداری وصول نہیں کر سکے گا۔
3۔ مسلمان یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا حال ساری دنیا میں بُرا کیوں ہے، مسلمانوں نے صدیاں حکومت کی ہے اور اب بھی مسلمان ملکوں پر معاشی پابندیاں اور کالے قانون یورپ لاگو کرتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہے کہ مسلمان سے مذہبی روح ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو معاشی غلام بنا کر رکھنا ہے۔ اسلئے ایسے کردار حکومت میں آئیں گے جو نام نہاد مسلمان ہوں گے مگر اندرکھاتے وہ منافق ہوں گے۔
4۔ خلافت عثمانیہ کو ملک حجاز سے ختم کرنے میں بھی شریف مکہ اورآل سعود کے ساتھ آل وہاب نے کام کیا۔ عربوں کی نسلی عصبیت کو ابھار کر ترکی کے خلاف کیا گیا۔ ترکی دور کے ساری دنیا کے علماء کرام نے میلاد عرس ایصال ثواب توسل استمداد حرف ندا استغاثہ پیری مریدی اور تقلید کو جائز قرار دیا اور وہابی علماء نے ان سب کو بدعت و شرک کہا۔ برصغیر میں بھی خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے خلافت کی تحریک چلائی گئی تھی مگر قدرت کو منظور نہیں تھا، اسلئے کامیاب نہیں ہو سکی۔
5۔دیوبندی اور بریلوی دونوں خلافت عثمانیہ والے ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا۔ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتیں ہیں۔ سعودی عرب ایک ملک ہے وہ خلافت کا پابند نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے زخموں پر دوائی لگانے والا ہے اور نہ ہی دعویدار ہے، اسلئے ہر ملک کو چاہئے کہ اپنے اپنے ملک میں اسلام کو نافذ کرے اور جو بدعتی و مشرک کہنے والے ہیں ان سے پوچھیں کہ اہلسنت علماء کرام نے کونسا بدعت و شرک سکھایا۔ البتہ ایرانی رافضیوں نے بدعت و شرک سکھایا ہے جس کے اہلسنت مسلمان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ حکومت میں شامل رافضی و قادیانی ذمہ دار ہیں۔ اہلسنت پر تو پابندی سعودی عرب کی وجہ سے لگی ہوئی ہے ورنہ علمی مذاکرات کر کے حق کا فیصلہ کر لیں۔