
منگھڑت یا حقیقت
1۔ ہر مسلمان کے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہوتا مگر جذبات کا ذخیرہ ہر ایک کے پاس ہوتا ہے، اسلئے کوئی بھی ناول، کہانی یا داستان پڑھکر روتا بھی ہے اور کہانی کے کردار میں ڈھلنے کی کوشش بھی کرتا ہے حالانکہ ہر ایک کو اللہ کریم نے اس دُنیا کا ستارہ بنایا ہے اور چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے کو سمجھ کر حضورﷺ کی محبت میں اللہ کریم کا قُرب حاصل کر سکتا ہے۔
2۔ انبیاء کرام، صحابہ کرام، اولیاء کرام، تاریخ کے کردار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، تاشقین بن یوسف، موسی بن نصیر کو پڑھکر بھی اُن جیسا بننے کا خیال دل میں نہیں آیا بلکہ اُ ن کو پڑھکر ایک جذبہ آیا کہ یا اللہ مجھ سے میری اوقات کے مطابق دین کا کام لے کیونکہ ہر کردار کی اپنی کہانی ہے اور ہر ایک نے دوسروں کی کہانی نہیں سُنانی بلکہ اپنی کہانی خود بنانی ہے۔
3۔ یہ دو واقعات ہیں جو منگھڑت لگتے ہیں اور اگر کوئی اس میں حقیقت ہو تو تمام دوستوں سے التماس ہے کہ بتائیں کہ یہ دونوں واقعات حدیث کی کس کتاب یا حضورﷺ کی سیرت کی کس کتاب میں لکھے ہیں کیونکہ تصوف کا حوالہ قابل قبول نہیں ہوتا بلکہ تصوف شریعت کے مطابق نہ ہو تو اُس کو رد کیا جاتا ہے۔ بابوں کے واقعات اور خوابوں پر کوئی قانون نہیں بنتے۔
پہلا واقعہ: اہلتشیع حضرات یہ کبھی بیان نہیں کریں گے جو اہلسنت اور اہلتشیع کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نکاح حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا اور حضرت علی رضی اللہ عنھا کی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھا سے ہوا (ریفرنس کے لئے لنک مانگ سکتے ہیں)، البتہ یہ کہیں گے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھیل رہے تھے اور حضرت حُسین رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عُمر رضی اللہ عنہ کے کہا کہ تم ہمارے غلام ہو، اس پرعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ناگواری ہوئی، اپنے والد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ اس طرح حضرت حُسین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹا قلم کاغذ لے کر جاؤ، اگر وہ لکھ دیں تو ہمارے لئے آخرت میں سند بن جائے گی۔
دوسرا واقعہ: ایک نعت پڑھی جاتی ہے جس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ”سمت نبی ابو جہل گیا اس نے نبی سے کہا کہ یہ تو بتا، میری مٹھی میں ہے کیا؟آقا کا فرمان ہوا اور فضل رحمان ہوا، مٹھی سے پتھر بولا، لاالہ الا اللہ۔
حوالہ: دونوں واقعات بے بنیاد لگتے ہیں، اگر کسی کے پاس کوئی حوالہ ہو یا پوچھ کر بتا سکتا ہو تو مہربانی ہو گی۔سب مسلمانوں کو ایک آواز ہونا چاہئے، غلط کو غلط کہیں اور صحیح کو صحیح کہیں۔
سچ: پاکستان میں دیوبندی اور بریلوی جماعتوں کے علماء ملکر، کانفرنس کر کے، عوام کو اگر یہ بتا دیں کہ دونوں جماعتوں کا اصولی اختلاف (دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتیں یا بریلوی حضرات کا حاضر ناظر، عالم الغیب، مُختار کُل یا نوروبشر) کیا ہے تو حضورﷺ کی اُمت پر احسان ہو گا، اگر عوام پوچھ کر بتا سکتی ہے تو اس مسئلے کو حل کر دے کیونکہ راضی تو اللہ اور اُس کے رسول کو کرنا ہے۔
تقلید: اہلحدیث حضرات سے صرف ایک سوال ہے کہ صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین، چار ائمہ کرام (امام ابو حنیفہ، شافعی، مالکی، حنبلی) کو صحیح احادیث کا علم نہیں ہو سکا تو اہلحدیث جماعت کے بچے بچے کو ”صحیح احادیث“ کے مطابق کس دور میں کس ایک (محدث، مجتہد، فقیہ) نے سکھائی صرف اُس کا نام بتا دیں۔