Saddique ke Tasdeeq (صدیق کی تصدیق)

صدیق کی تصدیق

1۔سورہ توبہ آیت 40 ” اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّـٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِىَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِى الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَنَا ۖ فَاَنْزَلَ اللّـٰهُ سَكِـيْنَتَهٝ عَلَيْهِ وَاَيَّدَهٝ بِجُنُـوْدٍ لَّمْ تَـرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّـذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى ۗ وَكَلِمَةُ اللّـٰهِ هِىَ الْعُلْيَا ۗ وَاللّـٰهُ عَزِيزٌ حَكِـيْـمٌ ترجمہ: اگر تم حضور ﷺ کی مدد نہ کرو تو بے شک اللہ نے انکی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے حضور ﷺ کو باہر تشریف کے جانا پڑا (ہجرت)۔ آپ دو میں سے دوسرے تھے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب (حضور ﷺ) اپنے یارِ غار (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ غم نہ کر، بے شک، اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی۔

تفسیر: اس آیت کے مطابق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا انکار کرنے والا مسلمان نہیں ہو سکتا (تفاسیر بغوی، مظہری، خزائن العرفان)۔ اِنَّ اللّـٰهَ مَعَنَا میں حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے وہ قرب (معیت) کی تصدیق کی جو خود حضور ﷺ کو حاصل تھا۔ (تفسیر مظہری) حضور ﷺ تو ہمیشہ سکینت (سکون) میں رہتے تھے البتہ سَكِـيْنَتَهٝ عَلَيْهِ میں سکینت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کیلئے تھی۔ (ازالتہ الخفاء، تاریخ الخلفاء) اِلَّا تَنْصُرُوْهُ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ شامل نہیں باقی کوئی بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ حضور ﷺ کے اس وقت مددگار تھے اور ساتھی تھے۔(تفسیر مظہری، تاریخ الخلفاء)

2۔ سورہ احزاب 43 ”هُوَ الَّـذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلَآئِكَـتُهٝ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا ترجمہ: وہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اسکے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف نکالیں اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے“ اس وقت نازل ہوئی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی نازل ہونے پر عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالی جو فضل آپ کو عطا فرماتا ہے تو آپ کے طفیل ہم نیازمندوں کو بھی نوازتا ہے۔ (تفاسیر مظہری، خزائن العرفان، تاریخ الخلفاء)

3۔ سورہ الزمر 33 ” وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ترجمہ: اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے انکی تصدیق کی، یہی ڈر والے ہیں“ کا شان نزول ”بزار و ابن عساکر رحمہما اللہ نے روایت کی کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسطرح ارشاد فرمایا: قسم ہے اس رب کی جس نے حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس رسالت کی تصدیق کرائی تو یہ آیت نازل ہوئی“(تاریخ الخلفاء)

اسطرح ازالتہ الخفاء جلد 5 میں یہ لکھا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حق لے کر آنے والے سے مراد حضور ﷺ اور تصدیق کرنے والے سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور یہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

4۔ ابن ابی خاتم کی روایت ہے کہ سورہ رحمن آیت 46 ” وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ترجمہ: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے، اسکے لئے دو جنتیں ہیں“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی (تفسیر مظہری، تفسیر در منثور)

5۔ سورہ نور آیت 22 ”وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُـوٓا اُولِى الْقُرْبٰى وَالْمَسَاكِيْنَ وَالْمُهَاجِرِيْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۗ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّـٰهُ لَكُمْ ترجمہ: اور قسم نہ کھائے وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں، قرابت والوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی، اور چاہئے کہ معاف کریں اور در گذر کریں“ بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے اپنے خالہ زاد بھائی حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی مالی مدد بند کر دی کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگانے والوں کی موافقت کی تھی۔(تفاسیر مظہری، خزائن العرفان و دیگر)

6۔ ایک دفعہ ایک یہودی کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلئے تھپڑ مارا کہ وہ اللہ کریم کے بارے میں گستاخانہ الفاظ بول رہا تھا کہ تمہارا اللہ فقیر ہے جو بندوں سے کہتا ہے کہ مجھے قرضہ دو، اُس یہودی نے حضور ﷺ سے شکایت کی تو حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے معاملہ پوچھا جس کو سُن کو یہودی مُکر گیا کہ میں نے ایسا کہا ہی نہیں تو اللہ کریم نے ال عمران 181 ” لَّـقَدْ سَـمِعَ اللّـٰهُ قَوْلَ الَّـذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّـٰهَ فَقِيْرٌ وَّّنَحْنُ اَغْنِيَآءُ ۘ ترجمہ: بے شک اللہ نے سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ محتاج ہے اور ہم غنی“ نازل فرماکر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی۔

7۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ سورہ لقمن آیت15 وَاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَـىَّ ۚ ”ترجمہ: اور اسکی راہ چل جو میری طرف رجوع لایا“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ جب وہ اسلام لائے تو حضرت عثمان، طلحہ زبیر، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنھم بھی ان کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔ (تفسیر مظہری و دیگر)

8۔ سورہ حدید 10 ” لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ترجمہ: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکاہے اور اللہ کریم کو تمہارے کاموں کی خبر ہے“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں ہے کیونکہ آپ سب سے پہلے ایمان لانے والے اور اللہ کی راہ میں مال لگانے والے ہیں۔ (تفسیر بغوی)

قاضی ثناء اللہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ سے افضل ہیں کیونکہ فضیلت کا دارومدار اسلام قبول کرنے، مال خرچ کرنے، تبلیغ کرنے، جہاد کرنے میں ہے اور سب اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں۔

علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اسلام لائے اور آپ کے ہاتھ پر قریش کے معززین مسلمان ہوئے۔ راہ خدا میں مال خرچ کرنے والوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔ کفار سے مصائب برداشت کرنے والوں میں بھی آپ سے سے پہلے ہیں۔ (تفسیر مظہری)

9۔ سورہ والیل کی آیات17تا 21” وَسَيُجَنَّـبُـهَا الْاَتْقَى اَلَّـذِىْ يُؤْتِىْ مَالَـهٝ يَتَزَكّـٰى وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٝ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰى اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰی وَلَسَوْفَ يَرْضٰى ترجمہ: اور اس (جہنم) سے بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ہے، جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ (اپنے رب سے راضی ہو گا) بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئیں (تفاسیر ابن کثیر، کبیر، قرطبی، مظہری و دیگر) کیونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سات غلاموں کو اسلام کی خاطر آزاد کیا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں (تفاسیر مظہری، روح المعانی) اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ آخری آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق میں اسطرح ہے جسطرح حضور ﷺ کے حق میں سورہ الضحی 5نازل ہوئی ” ترجمہ: اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے“۔

تصدیق: آج کے دور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ماننے والوں سے سوال ہے کہ ان تین سوالوں کی تصدیق چاہئے کیونکہ ہمارے نزدیک اصل اہلسنت چار مصلے اجماع امت عثمانیہ خلافت والے تھے جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا۔ اسلئے ہر جماعت اپنا جواب دے۔

سوال: کیا دیوبندی اور بریلوی جماعتیں خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے عقائد پرمتفق نہیں ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا؟ دونوں جماعتوں کا اختلاف صرف دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں کا نہیں ہے؟ اگر یہ بات درست نہیں تو دونوں طرف کے علماء اکٹھے ہو کر بتا دیں کہ اختلاف کیا ہے اورکس کتاب میں لکھا ہے تاکہ اتحاد امت ہو۔

سوال: اہلحدیث جماعت بالکل “صحیح احادیث“ کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کس “ایک“ نے کس دور میں ”صحیح احادیث“ کے مطابق اہلحدیث جماعت کو نماز ادا کرنا سکھایا کیونکہ چار ائمہ کرام جو صحابہ یا تابعین کے دور میں تھے اُن کو بھی ”صحیح احادیث“ کا علم نہ ہو سکا؟

سوال: اہلتشیع کا تعلق نہ تو صحابہ کرام سے ہے جنہوں نے قرآن اکٹھا کیا کیونکہ ان کے نزدیک صحابہ کرام نعوذ باللہ کافر ہیں، احادیث کی کتابیں بھی اہلسنت والی نہیں ہیں، ان کے علماء (زرارہ، ابو بصیر، محمد بن مسلم، جابر بن یزید، ابو بریدہ) اور بنیادی کُتب(الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، استبصار) کو حضورﷺ سے متصل نہیں بلکہ اپنے ڈپلیکیٹ امام سے منسوب کر کے بے بنیاد دین پر ہیں۔ اہلتشیع کا دین اہلکتاب عیسائی اور یہودی کی طرح ہے جنہوں نے اپنے دین میں منگھڑت عقائد بنا لئے۔

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general