
دُشمن حضرت معاویہ ۔۔ دُشمن احادیث
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، صحابی رسول ﷺ ہیں اور ان کے خلاف ان احادیث کی معنوی تحریف کر کے اہلتشیع و رافضی و انجینئر اور دیگر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔
1۔ مسلم 6628 حضور ﷺ نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرمایا: جاؤ، میرے لئے معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔
تشریح: علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات دُعا بن کر لگی، جب شام کے امیر بنے تو آپ ایک دن میں سات مرتبہ کھاتے تھے۔ انکے سامنے ایک بہت بڑا تھال لایا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ گوشت اور پیاز ہوتا تھا پھر آپ اس سے کھاتے تھے اور آپ دن میں سات مرتبہ گوشت کھاتے تھے اور بہت زیادہ مٹھائی اور پھل کھاتے تھے اور کہتے تھے: اللہ کی قسم میرا پیٹ نہیں بھرتا میں کھا کھا کے تھک جاتا ہوں اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اسطرح کا معدہ انسان کے پاس ہو جس کے لئے بادشاہ شوق رکھتے اور ترستے ہیں۔
دوسرا اس سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو آخرت میں بھی فائدہ ہو گاکیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ میں ایک انسان ہوں جو کو بھی میں نے دنیا میں برا بھلا کہا ہے یا سزاد ی ہے یا بد دعا دی ہے اور وہ اس کا اھل نہیں ہے تو اس بد دعا کو اس کے لئے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور اپنے قُرب کا سبب بنا دے۔ (البدایہ و النھایہ)اس حدیث میں یہ ثابت ہی نہیں کہ حضرت معاویہ کو پیغام دیا گیا ہو۔
نتیجہ: یہ حضور کی کوئی بد دعا نہیں تھی لیکن ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کی بد دعا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے۔
2۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے باپ سیدنا معاویہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک مشروب لایا گیا، سیدنا معاویہ نے وہ پیا اور میرے ابا جان کو پکڑا دیا، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُہُ مُنْذُ حَرَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ، قَالَ مُعَاوِیَۃُ: پھر انہوں نے ( یعنی معاویہ نے کہا) : جب سے نبی کریم ﷺ نے ( نشہ آور شراب کو ) حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، جب میں جوان تھا تو کوئی چیز ( میری اتنی پسندیدہ، متلذذ) ایسی نہیں تھی جس کو میں لذت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا جس طرح کہ میں اسکی لذت پاتا تھا علاوہ دودھہ کے یا وہ انسان بھی مجھے بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھے انداز میں بات کرتا ہے۔ (رواہ احمد. 7479 نسخہ ثانی 23329)
غلط فہمی: یہاں اہلتشیع اور مرزا انجینئر نے غلط فہمی پیدا کی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شراب ایک صحابی کو پیش کی اور انہوں نے کہا کہ جب سے رسول اللہ ﷺ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، میں نے اس وقت سے نہیں پیا حالانکہ یہ تشریح غلط ہے کیونکہ دوسری حدیث سیدنا عبد اللہ بن بریدہ کی یہ کہتی ہے: عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ میں میر ے والد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے میرے والد کو چارپائی پر بٹھایا پھر کھانا لایا گیا ہم نے کھایا اور پھر مشروب لایا گیا پھر ( معاویہ رضی اللہ عنہ) نے پیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے جوانی میں بھی دودھ سے زیادہ کوئی چیز لذت والی محسوس نہیں ہوتی تھی آج بھی میں، دودھ ہی لے رہا ہوں جیسا کہ آج سے پہلے بھی میں دودھ ہی لیتا تھا۔ (ابن ابی شیبہ ج 6 ص 188 الرقم: 30560)
یہاں شراب کے لفظ ہیں لیکن مقصد ہمارے والا شراب نہیں۔بخاری شریف:3320 ”جب مکھی کسی کے شراب (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دےکیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے ( پر ) میں شفاء ہوتی ہے۔“ عربی زبان میں شراب کے لیے ’’خمر‘‘ کا لفظ آتا ہے نہ کہ ’’شراب‘‘ کا۔ جیساکہ قرآن میں ہے ( انما الخمر والمیسر۔الخ)
سچ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشروب پیش کیا تھا لیکن احادیث میں بریکٹیں لگا کر عربی متن کے بغیر ترجمہ کر کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شرابی ثابت کرنے والے رافضی ایجنڈے پر ہیں۔
3۔ مسلم 6220: حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب(حضرت علی) کو (أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ) برا کہیں۔ انھوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان (حضر ت علی) سے کہی تھیں، میں ہرگز انھیں برا نہیں کہوں گا۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی میرے لئے ہوتو وہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوگی۔۔۔۔
اگر عربی لفظ سب کا معنی گالی ہے تو پہلے چند صحیح احادیث میں جہاں عربی لفظ ”سب“ لکھا ہے اس کو پڑھ کر فیصلہ کرتے ہیں:
بخاری4033: حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنھما یعنی چچا اور بھتیجا دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس باغ فدک کا مسئلہ حل کروانے کے لئے تشریف لائے اور حدیث کے الفاظ ہیں (فاستب علی و عباس) یعنی حضرت علی اور عباس رضی اللہ عنھما نے ایک دوسرے پر ”سب“ کیا۔
مسلم 5947: حضور ﷺ نے فرمایا کہ کل تم لوگ اگر اللہ تعالی نے چاہا تو تبوک کے چشمے پر پہنچو گے۔۔ اور جو کوئی تم میں سے اس چشمے کے پاس جائے تو اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے جب تک میں نہ آؤں۔سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم اس چشمے پر پہنچے تو اس سے پہلے دو آدمی پہنچ گئے تھے۔۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، تو آپ ﷺ نے ان کو (فسبهما النبي ﷺ) ”سب“ کیا اور اللہ کریم کو جو منظور تھا وہ ان کو سنایا۔
بخاری 6361: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ میں نے جس مومن کو بھی (اللهم فايما مؤمن سببته) ”سب“ کیا ہو، اس کے لئے کل قیامت والے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنا دے“۔
تشریح: اگر سب کا معنی گالی نکالنا ہے تو پھر یہ الزام حضرت علی، عباس اور حضور ﷺ پر بھی لگے گا اور جو لگائے گا وہ بے ایمان ہے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی بے ایمان ہیں جو بغیر علم کے ”سب“ کا معنی گالی کر کے مسلمانوں کو صحابہ کرام کے خلاف کر کے گمراہ کر رہے ہیں۔ اب عربی لفظ”سب“ کا استعمال حدیث سے دیکھتے ہیں:
بخاری 2411: میں ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے کو (استب رجلان) ”سب“ کیا، اب وہ ”سب“ والے جملے کیا تھے؟ مسلمان نے کہاکہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور یہودی نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے موسی علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے۔ کیا ان جملوں کو کوئی مسلمان گالی کہہ سکتا ہے؟
حقیقت: اسلئے ان سب احادیث میں ”سب“ کا معنی تنقید کرنا اور دلائل کے ساتھ ایک دوسرے کا رد کرنا بنتا ہے۔ اسلئے مسلم 6220 کی شرح اسطرح اہلسنت علماء کرتے ہیں:
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ، سعد رضی اللہ عنہ سے کہنا چاہتے تھے کہ آپ بھی یہ موقف بیان کریں کہ قصاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد ٹھیک نہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رد یعنی سب کریں۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جو فضائل بتائے ان میں یہ بھی تھا کہ حضور ﷺ نے انہیں ہارون علیہ اسلام کی جگہ دی، جس کا مطلب ہے کہ وہ بلند پائے کے عالم ہیں ان کا اجتہاد غلط نہیں ہو سکتا جیسا کہ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: معاویہ نے سعد رضی اللہ عنھما سے کہا کہ کیا مسئلہ ہے کہ آپ علی رضی اللہ عنہ کی رائے اور اجتہاد کو خطاء قرار نہیں دیتے؟ اور لوگوں کے سامنے ہماری رائے اور اجتہاد کی اچھائی ظاہر نہیں کرتے؟ کیوں بیان نہیں کرتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطاء پر ہیں؟
امام نووی فرماتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان میں کوئی وضاحت نہیں کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا بلکہ پوچھا تھا کہ آپ تنقید کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ خوف اور ڈر کی وجہ سے تنقید نہیں کرتے یا توریہ کے طور پر نہیں کرتے؟ یا کوئی دوسرا مسئلہ ہے۔ اگر آپ علی رضی اللہ عنہ کی عزت کی وجہ سے اور احتیاطاً تنقید نہیں کرتے تو آپ درست اور اچھا کرنے والے ہیں، اگر یہ نہیں تو جواب دوسرا ہو گا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید یعنی علمی رد کا حکم دیا لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب انکار کر دیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر کوئی سختی نہیں کی اور نہ ہی مجبور کیا بلکہ خاموش ہو گئے۔
اس روایت سے یہ بھی علم ہوا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے بیچ میں موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کر رہے تھے جبکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تنقید نہیں کر رہے تھے اور ان پر رد کرنے سے عاجز تھے جس پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھ لیا آپ کیوں نہیں تنقید کر رہے؟ تو اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان تنقید کرنے والوں پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرنے شروع کر دئے۔
بالفرض ”سب“ کا معنی گالیاں لیں تو کیا ہم جنتی شہزادوں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنھما اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دوسرے بیٹوں سے یہ امیدکر سکتے ہیں کہ وہ خاموشی سے سنتے تھے اور کوئی رد نہیں کیا اور بعد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنھما کے ہاتھ پر بیعت بھی کر لی۔
4۔ بخاری 447 "حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد بناتے ہوئے دو دو اینٹیں اُٹھا رہے تھے جب کہ دوسرے صحابہ ایک ایک اینٹ اُٹھا رہے تھے، نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا: افسوس!عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔”
ظاہری مفہوم: اسلئے سیدھا سادا مفہوم بنتا ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو باغی جماعت شہید کرے گی۔
بخاری 1127 "حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک رات ان کے اور فاطمہ کے پاس حضور ﷺ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس بات پر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ ﷺ ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے (سورہ کہف کی آیت) و کان الانسان اکثر شئی جدلا ترجمہ:لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔ اس آیت سے مفسرین کہتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن پر اعتراض کرتے ہیں۔
ظاہری مفہوم: اب اس حدیث کے مطابق کوئی یہ کہے کہ معاذ اللہ حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنھما دونوں جھگڑالو تھے تو بے ایمان ہو جائے گا بلکہ اُس کو گستاخ اہلبیت بھی کہا جائے گا۔اسلئے بخاری و مسلم میں محدثین احادیث لاتے ہیں مگر احادیث کی شرح اہلسنت علماء کرام اسطرح کرتے ہیں:
مسلم 2458 ”جب مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہو جائے گا تو ان (مسلمانوں کی دونوں اختلاف کرنے والی جماعتوں) کے بیچ میں سے ایک گروہ نکلے گا اور اس گروہ کے ساتھ جو مسلمانوں کی جماعت لڑائی کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہو گی“۔
صحیح ابن حبان 6744 ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے پھر ان دونوں گروہوں کے درمیان میں سے ایک الگ گروہ نکلے گا پھر اس (مسلمانوں کی دو جماعتوں کے بیچ سے) نکلنے والے (گروہ) سے جو مسلمان (جماعت) لڑائی کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہو گی“۔
صحیح ابن حبان 6749 نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا جو اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا ان کی نشاندہی ٹنڈ ہو گی وہ سب سے برے انسان ہیں یا وہ سب سے بری مخلوق ہیں (مسلمانوں کی) دو جماعتوں میں سے انہیں جو قتل کرے گا وہ حق کے زیادہ قریب ہو گا۔
شرح احادیث: ان دو مسلمان جماعتوں سے مراد حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنھما کی جماعتیں ہیں۔ اسلئے امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: بیچ میں ہونے والے اختلاف سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنھما کا آپس کا اختلاف ہے اور جو گروہ ان کے بیچ سے نکلا وہ خوارج کا گروہ ہے۔ خوارج سے لڑائی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کی اسلئے بھی وہ حق پر ہیں۔
اہلتشیع عالم: باقر مجلسی نے لکھا: چوتھی متفق علیہ حدیث جس کو حمیدی نے روایت کیا ہے، مسند ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں پستان والے (خارجی) شخص اور ان کے ساتھیوں کا تذکرہ ہے جن کو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نھروان جگہ پر قتل کیا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمانوں کے اختلاف کے وقت ایک گروہ مسلمانوں سے الگ ہو جائے گا اور جو جماعت اس گروہ سے لڑے گی وہ دونوں جماعتوں میں سے حق سے زیادہ قریب ہو گی۔ (بحار الانوار طبع جدید ج 32 ص 349 طبع قدیم ج 32 ص 310 المجلد السادس عشر)۔ بخاری 3610 ”ابو سعید خدری فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (مسلمانوں کے بیچ سے نکلنے والے تیسرے گروہ خارجیوں) اس گروہ سے لڑائی کی اور میں ان کے ساتھ تھا“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جنگ صفین کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا کہ انکا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہمارے اور ان کے مقتولین جنت میں جائیں گے، باقی یہ معاملہ میرا یا معاویہ کا ہے۔ (ابن ابی شیبہ ج 7 ص 552) اور جنت جمل کے مقتولین کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا بھائی کہا (ابن ابی شیبہ ج7، ص 535)
تجزیہ: جنگ جمل اور جنگ صفین والے جنتی ٹھرے اور جنگ نہروان والے قاتلین عثمان، خارجی و سبائی و ایرانی تھے۔ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”حدیث عمار“ دلیل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور دوسری جماعت باغی ہے مگر وہ مجتہد ہیں اسلئے ان پر کوئی گناہ نہیں“۔
مزید تشریح: حدیث عمار میں ہے”عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی“ کا مطلب ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سامنے حق واضح تھا اور جب انسان کے سامنے حق واضح ہو جائے پھر بھی حق کو چھوڑ کر جائے تو جہنم میں جائے گا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کے سامنے یہ حق واضح نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے فی الفور قصاص نہ لینے کی وجہ سے خطا پر تصور کرتے تھے۔
بخاری 2732 ”صلح حدییبیہ کے وقت عروہ جب بھی حضورﷺ کی داڑھی کو رواج کے مطابق ہاتھ لگانے لگتا تو تلوار لٹکائے، سر پر خود پہنے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کا ہاتھ جھٹک کر دور کرتے اور صلح حدیبیہ کے صحابہ کرام کے متعلق اللہ کا فرمان ہے: یقینا اللہ تعالی مومنوں سے خوش ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں میں جو تھا اسے (اللہ)نے جان لیا اور ان پر اطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔ (الفتح 18) مسلم 6404”اصحاب شجرہ (درخت والوں) کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں داخل نہ ہو گا“۔
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کئی اور بزرگ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر میں موجود تھے تو قرآن و سنت کا کون انکار کرے گا؟؟
بخاری 6875 ”دو مسلمان جب آپس میں تلواروں کے ساتھ لڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں“ لیکن امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ خون جو صحابہ کے بیچ میں اختلافات کی وجہ سے بہے تھے، نبی کریم ﷺ کے اس وعید کے اندر داخل نہیں۔ اہلسنت اور اھل حق کا مذہب یہی ہے کہ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے، اور جو ان کے بیچ میں اختلافات ہوئے اس حوالے سے خاموش رہا جائے، ان کے بیچ میں جو لڑائیاں ہوئیں تھیں اس حوالے سے (صحیح) توجیہ بیان کی جائے۔
بے شک وہ سارے کے سارے مجتہد اور توجیہ کرنے والے تھے اور ان کا نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی دنیا کی لالچ تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر جماعت کا یہی خیال تھا کہ وہ حق پر ہیں اور اس کا مخالف باغی ہے اسلئے ان سے قتال کرنا واجب ہے تاکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کچھ ان میں سے درست تھے اور کچھ ان میں سے اجتہادی خطا کی وجہ سے معذور ہیں کیونکہ یہ غلطیاں اجتہاد کی وجہ سے صادر ہوئیں اور مجتہد جب اجتہاد کرتا ہے اس سے خطا صادر ہو جائے تو (پھر بھی اسے ثواب ملتا ہے) اور اسکی غلطی پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (شرح مسلم)
عقیدہ: اہلسنت کا عقیدہ یہ بنا کہ جنگ جمل اور جنگ صفین کے مقتولین جنتی ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف رافضی اور ناصبی ہو سکتے ہیں مگر اہلسنت نہیں۔
5۔ بخاری 4108: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان تحکیم (معرکہ صفین میں صُلح کافیصلہ) کا معاملہ ہونا تھا تو مجھے بھی بلایا گیا، میں مشورے کیلئے اپنی بہن حضرت حفصہ رضی اللہ عنھا کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے شرکت کا مشورہ دیا، جب میں وہاں گیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے تقریر کی اور کہا کہ اس معاملے کے ہم ہر شخص سے زیادہ حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ حقدار ہیں. ابن عمر کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں جواب دوں کہ اس معاملے کا حقدار وہ ہے جس نے تجھ سے اور تیرے باپ سے اسلام کیلئے لڑائی کی (یعنی حضرت علی)
نوٹ: اب یہاں سمجھنا ہے کہ وہ کونسا معاملہ ہے جس کے حقدار ہونے کا دعوی معاویہ رضی اللہ عنہ کررہے تھے؟
خلافت یا قصاصِ عثمان
علامہ عینی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو برقرار رکھتا ہوں کیونکہ وہ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کا ولی ہے، ان کے خون کا مطالبہ کرنے والا ہے اور اس معاملے (یعنی قصاص) کا زیادہ حقدار ہےتو معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے تقریر کرکے کہا کہ جو اس قصاص کے معاملے میں ہم سے بحث کرنا چاہتے ہیں ہم اس میں ان سے زیادہ حقدار ہیں۔
علامہ جوینی کہتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ حضرت علی سے لڑائی کی لیکن انہوں نے کبھی بھی نہ ان کی خلافت کا انکار کیا اور نہ ہی کبھی اپنے لئے خلافت کا دعوی کیا، بس وہ تو حضرت عثمان کے قاتلوں کو چاہتے تھے اور یہی ان سے خطا ہوئی۔لمع الأدلة في عقائد أهل السنة للجويني، ص:115)
*شیعوں کی مشہور کتاب “نہج البلاغہ” میں حضرت علی رضی اللہ منقول ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل شام کے درمیان اگرچہ جنگ ہوئی لیکن ہمارا رب ایک ہے، ہمارا دین ایک ہے، بس اختلاف تو صرف عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص پر ہے اور ہم اس کے خون کے الزام سے بری ہیں۔
*دو مشہور صحابہ ابودرداء اور ابوامامہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم معاویہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کررہے ہیں جبکہ ان کا اسلام مقدم، ان کا مرتبہ آپ سے بلند، اور وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں… تو معاویہ رضی اللہ نے جواب دیا کہ ہماری لڑائی قصاص عثمان پر ہے کیونکہ قاتلین عثمان ان کے پاس ہیں، بس وہ ان سے بدلہ لے لیں پھر سب سے پہلے میں بیعت کرونگا. ( ويورد ابن كثير في البداية والنهاية (7/360)، عن ابن ديزيل [هو إبراهيم بن الحسين بن علي الهمداني المعروف بابن ديزيل الإمام الحافظ (ت 281 ه) انظر: تاريخ دمشق (6/387) وسير أعلام النبلاء (13/184-192) ولسان الميزان لابن حجر (1/48)] بإسناد إلى أبي الدرداء وأبي أمامة رضي الله عنهما)
ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں: حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھما کی جنگ خلافت کے معاملے پر نہیں تھی کیونکہ اس کے حقدار تو بالاتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے، دراصل جنگ کی وجہ قصاص عثمان تھی ( الصواعق المحرقة (ص: 325)
ابن تیمیہ لکھتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی کی زندگی میں نہ تو خلافت کا دعوی کیا اور نہ ہی اس پر لوگوں سے بیعت لی (مجموع الفتاوى:35/72)
خلاصہ تحقیق: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقصود اس معاملے سے قصاص عثمان تھا نہ کہ خلافت، چہ جائیکہ وہ اپنے آپ کو حضرت عمر سے افضل قرار دیں۔
خلاصہ کلام: مشاجراتِ صحابہ (یعنی صحابہ کرام کے اختلافات اور لڑائیاں) ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے، اس معاملے میں جس قدر احتیاط کی جائے وہی بہتر ہے کہ اس نازک موضوع کو چھیڑ کر کسی ایک صحابی کو مجرم قرار ہر گز نہ دیا جائے۔ حضور ﷺ کے مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہوں تو حق پر نہیں ہوں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حق پر نہیں ہوں گے۔
اگر یہ پانچ احادیث شرح سمیت سمجھ آ گئیں تو سمجھ جائیں کہ باقی بھی احادیث کی شرح موجود ہے۔
اجماع امت: اہلسنت کو رافضی، خارجی، سعودی، ایرانی، جاہل، پڑھا لکھا جاہل، ملحد، قادیانی، تفضیلی، تفسیقی نے مارا ہے کیونکہ اہلسنت نے قرآن و احادیث کے مطابق لکھا فتاوی رضویہ اپنی اپنی مساجد میں بیان نہیں کیا بلکہ ہر عالم و خطیب، پیر وغیرہ خود کو ٹھیک کہتے رہے حالانکہ ٹھیک وہی ہے جو عقائد اہلسنت پر ٹھیک ہے۔ ہم نے علماء یا جماعتوں پر نہیں بلکہ عقائد اہلسنت پر اکٹھا ہونا ہے، اسلئے سب ایک نعرہ لگائیں چار مصلے اجماع امت اہلسنت اہلسنت