Ek Fatwa Chai (ایک فتوی چاہئے)

ایک فتوی چاہئے

المہند بہترین رسالہ جس میں دیوبندی علماء نے خلافت عثمانیہ کے دور کے اہلسنت عقائد لکھے مگر اس رسالے میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ یہ رسالہ جناب احمد رضا خاں صاحب کے دجل و فریب کا واضح ثبوت ہے کہ اُس نے 1905 میں چار دیوبندی علماء کی عبارتوں پر کفر کے فتاوی (حسام الحرمین) جھوٹے لگوائے جس پر خلافت عثمانیہ کے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے 26 سوال پوچھے۔ آج المہند کا پہلا اور دوسرا خود ساختہ سوال پڑھتے ہیں اور پھر دیوبندی عوام و علماء سے سوال کرتے ہیں:

پہلا اور دوسرا سوال
تمہارے نزدیک اور تمہارے اکابر کے نزدیک ان دو باتوں میں کونسا امر پسندیدہ و افضل ہے کہ زیارت کرنے والا بوقت سفر زیارت خود آنحضرت ﷺ کی زیارت کی نیت کرے یا مسجد نبوی ﷺ کی بھی، حالانکہ وہابیہ کا قول ہے کہ مسافر مدینہ منورہ کو صرف مسجد نبوی کی نیت سے سفر کرنا چاہئے۔

جواب: تمہید کے بعد بیان۔۔ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک زیارت قبر سید المرسلین (ہماری جان آپ پر قربان) اعلی درجہ کی قربت اور نہایت ثواب اور سبب حصول درجات ہے بلکہ واجب کے قریب ہے۔۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ جو علامہ ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ خالص قبر شریف کی زیارت کی نیت کرے پھر جب وہاں حاضر ہو گا تو مسجد نبوی کی بھی زیارت حاصل ہو جائے گی۔ اس صورت میں جناب رسالت مآب ﷺ کی تعظیم زیادہ ہے اور اس کی موافقت خود حضور ﷺ کے ارشاد سے ہو رہی ہے کہ جو میری زیارت کو آیا، کہ میری زیارت کے سوا کوئی حاجت اس کو نہ لائی ہو تو مجھ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اس کا شفیع بنوں۔۔۔

اب رہا وہابیہ کا یہ کہنا کہ مدینہ منورہ کی جانب سفر کرنے والے کو صرف مسجد نبوی کی نیت کرنی چاہئے اور اس قول پر اس حدیث کو دلیل لانا کہ کجاوے نہ کسے جائیں مگر تین مسجدوں کی جناب، سو یہ قول مردود ہے۔۔ اس لیے کہ وہ حصہ زمین جو جناب رسول اللہ ﷺ کے اعضاء مبارکہ کو مس کئے ہوئے ہے علی الاطلاق افضل ہے یہاں تک کہ کعبہ اور عرش و کرسی سے بھی افضل ہے۔۔“

سوال: المہندکے سوال میں 1703 میں پیدا ہو کر 1790 میں فوت ہونے والا”محمد بن عبدالوہاب“ کو ”وہابی“ کہا گیا ہے یا اہلحدیث حضرات کو ورنہ 1908میں حرمین شریفین میں وہابی کون تھے؟ کیا المہند کو سعودیہ والے تسلیم کرتے ہیں؟

نتیجہ: وہابی محمد بن عبدالوہاب کے ماننے والوں کو کہتے ہیں جنہوں نے 1924 میں مزارات ڈھا کر خلافت عثمانیہ کے اہلسنت علماء کرام کو بدعتی و مشرک کہا۔ اسلئے دیوبندی حضرات سے عرض ہے کہ اگر بدعت و شرک محمد بن عبدالوہاب نے ختم کیا تو المہند سے توبہ کر لیں اور اپنے دیوبندی اکابر کو بدعتی و مشرک کہیں لیکن منافقت نہ کریں۔

فتوی: دیوبندی، اہلحدیث اور سعودی عرب کے وہابی علماء بریلوی کو بدعتی و مشرک، رافضی کہہ کر مسلمانوں کو رافضیت کی طرف دھکا دے رہے ہیں۔ دیوبندی (حنفی) اور اہلحدیث (غیر مقلد) کو سعودی عرب کا امام کعبہ پاکستان میں امامت کرواتا ہے اور یہ دونوں جماعتیں سعودی عرب میں امام کعبہ وہابی کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جیسے خلافت عثمانیہ والوں نے دیوبندی علماء کی عبارتوں پر کفر کا فتوی دیا تو دونوں جماعتیں سعودی عرب سے ایک فتوی کیوں نہیں لیتیں کہ امام کعبہ حنبلی ہے یا غیر مقلد؟ اگر سعودی عرب ایک فتوی نہیں دے سکتا تو مسلمان حرمین شریفین کو اپنا مرکز کیسے مان سکتے ہیں؟

دیوبندی و بریلوی؛ اتحاد امت کے لئے ان پانچ سوالوں کے جواب چاہئیں (۱) بریلوی اور دیوبندی بننا لازمی ہے یا اہلسنت بننا لازمی ہے اور اہلسنت کیا خلافت عثمانیہ والے نہیں ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا (۲)بریلوی اور دیوبندی کا اصولی اختلاف کیا ہے؟ (۳) دیوبندی اور بریلوی کو اکٹھا کرنے کی تجاویز کیا ہیں؟(۴) دیوبندی اور بریلوی کے عقائد کونسے ہیں؟ (۵) دیوبندی اور وہابی میں کیا فرق ہے؟

اہلحدیث سے سوال: اہلحدیث جماعت سے ہے کہ تقلید کو بدعت و شرک کس مجتہد نے کہااورکس نے کہا ضعیف احادیث پر عمل ناجائز ہے اور جو صحیح احادیث میں بتاؤں گا اس پر میری اتباع کرنا۔

اہلتشیع سے سوال: حضورﷺ، صحابہ کرام و تابعین کے قول و فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔ مرفوع حدیث کا تعلق حضور ﷺ، موقوف کا صحابی اور مقطوع کا تابعی سے ہوتا ہے۔اہلتشیع حضرات کی ساری احادیث کی کتابیں منگھڑت ہیں ورنہ مرفوع، موقوف اور مقطوع احادیث کے صحابہ کرام اور اہلبیت، تابعین کے نام بتائیں جن کا قرآن و سنت کے مطابق تقیہ، تبرا، معصوم، بدا کا عقیدہ تھا۔

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general