
حیات النبی ﷺ
اس پیج پر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ دیوبندی اور بریلوی کوئی مسلک و مذہب نہیں ہیں بلکہ 600 سالہ خلافت عثمانیہ کے دور کے اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کے متفقہ عقائد پرہیں۔ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتیں ہیں جن کے فتاوی خلافت عثمانیہ، حرمین شریفین، اہلسنت علماء کرام سے لئے گئے۔ دیوبندی حضرات کا یہ دعوی ہے کہ خلافت عثمانیہ کے اہلسنت علماء کرام نے 26 سوال پوچھ کر فتاوی و اپس لے لئے۔المہند کا پانچواں سوال و جواب یہ ہے:
پانچواں سوال: کیا فرماتے ہو جناب رسول اللہﷺ کی قبر میں حیات کے متعلق کہ کوئی خاص حیات آپ کو حاصل ہے یا عام مسلمانوں کی طرح برزخی حیات ہے؟
جواب: ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرتﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آن حضرت ﷺ اور تمام انبیاء علیھم السلام اور شہداء کے ساتھ، برزخی نہیں ہے۔۔چنانچہ فرماتے ہیں کہ علامہ تقی الدین سبکی نے فرمایا ہے کہ انبیاء و شہدا کی قبر میں حیات ایسی ہے جیسی دُنیا میں تھی اور موسی علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اس کی دلیل ہے کیونکہ نماز زندہ جسم کو چاہتی ہے الخ۔(المہند صفحہ30-31)
حیاتی مماتی: بے شک خلافت عثمانیہ والے، دیوبندی، بریلوی اور ساری دنیا کے اہلسنت علماء کرام کا عقیدہ ”حیاتی“ کا ہے مگر سعودی عرب کے وہابی علماء، اہلحدیث اور دیوبندی مماتی کا عقیدہ برزخی والا ہے کہ بس علیین میں ہیں اور اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلئے دیوبندی علماء سے سوال ہیں:
1۔ سعودی عرب والے تو اس عقیدے کے نہیں ہیں، اگر ہیں تو ان کا کوئی فتوی دکھا دیں۔ اہلحدیث حضرات اور سعودیہ والے ایک عقیدے کے ہیں مگر سعودی عرب ”غیر مقلد“ ہو کر بھی سرکاری طور پر حنبلی مذہب پر قائم ہیں لیکن اہلحدیث حضرات پاکستان میں غیر مقلد کیوں ہیں۔ دیوبندی حضرات محمد بن عبدالوہاب کو اہلسنت حنبلی ثابت کر رہے ہیں۔ کیوں؟
2۔ دیوبندی اور بریلوی کوئی مسلک و مذہب ہی نہیں ہیں تو عوام کو بتائیں کہ خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اجماع امت، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اور سعودی عرب کے وہابی علماء میں فرق کیا ہے؟
تجزیہ: یہ جھوٹ ہے کہ دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتوں پر فتاوی واپس ہوئے بلکہ ان کے اکابر توبہ کئے بغیر دنیا سے چلے گئے۔ دوسری بات چار کفریہ عبارتوں کا دفاع کرنے والے بھی کافر ہی کہلائیں گے جب تک توبہ نہ کریں۔ تیسری بات بڑے دُکھ کی ہے کہ دیوبندی بریلوی کو بدعتی و مشرک ثابت نہیں کر رہے بلکہ سعودی عرب کے ساتھ ملکر خلافت عثمانیہ کے اہلسنت یعنی اپنے اکابر کو بدعتی و مشرک بنا رہے ہیں۔
معاہدہ لوزان: خلافت عثمانیہ ختم کرنے کے بعد معاہدہ لوزان ہوا جس میں یہ شق شامل تھی کہ خلافت عثمانیہ والے اب 100سال تک ”خلافت“ کا نام نہیں لیں گے۔ سعودی عرب کے آل وہاب کو حرمین شریفن میں مذہبی وزیر بنا دیا گیا اور اُس کے بعد مسلمان بکھرتے چلے گئے۔
رافضی: پاکستان میں اہلتشیع حضرات نے ڈاکٹر، انجینئر، نعت خواں، بریلوی کہلانے والے پیر و مزار پر پریشر اور پیسے کے ذریعے اپنا ہمنوا بنایا اور جو کام رافضی کرتے تھے آجکل یہی کام نام نہاد بریلوی اہلسنت کر رہے ہیں۔
حل: دیوبندی اور بریلوی علماء آپس میں چار کفریہ عبارتوں کا اصولی اختلاف رکھیں لیکن عوام کو بتائیں کہ اصل اہلسنت خلافت عثمانیہ والے ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا ورنہ فرقہ واریت ختم نہیں ہو گی بلکہ بڑھے گی۔ انانیت کے بُت قیامت کو یاد کر کے توڑ دیں۔
اہلحدیث سے سوال: ایک ہی سوال اہلحدیث جماعت سے ہے کہ تقلید کو بدعت و شرک کس مجتہد نے کہااورکس نے کہا ضعیف احادیث پر عمل ناجائز ہے اور جو صحیح احادیث میں بتاؤں گا اس پر میری اتباع کرنا۔
اہلتشیع سے سوال: حضورﷺ، صحابہ کرام و تابعین کے قول و فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔ مرفوع حدیث کا تعلق حضور ﷺ، موقوف کا صحابی اور مقطوع کا تابعی سے ہوتا ہے۔اہلتشیع حضرات کی ساری احادیث کی کتابیں منگھڑت ہیں ورنہ مرفوع، موقوف اور مقطوع احادیث کے صحابہ کرام اور اہلبیت، تابعین کے نام بتائیں جن کا قرآن و سنت کے مطابق تقیہ، تبرا، معصوم، بدا کا عقیدہ تھا۔