
المہند کا محمد بن عبدالوہاب
خلافت عثمانیہ، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی)، چار مصلے، اجماع امت والوں کے لئے اُس دن کُہرام مچا، جب مسلمانوں کا ”مرکز“ خانہ کعبہ سے چار مصلے ختم کروا کر 1924کو سعودی عرب وجود میں آیا اور آل وہاب نے مزارات ڈھا کر اپنا وجود ساری دنیا کی نظروں سے گرایا۔ اہلسنت نے یہ پڑھا ہوگا: چل اور یار حوالے رب دے کہ میلے چار دناں دے ۔۔ او دن ساڈی عید ہو سی جس دن فیر ملاں گے۔
1905 میں عاشق رسول جناب احمد رضا خاں صاحب نے دیوبندی علماء کی چار عبارتوں پر کُفر کے فتاوی اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) سے لئے تو حقیقتاً وہ عبارات رسول اکرم ﷺ کی توہین تھیں مگر انانیت کے مارے دیوبندی حضرات نے عوام کو باور کروایا کہ المہند کے عقائد پڑھ کر حرمین شریفین کے اہلسنت علماء کرام نے فتاوی واپس لے لئے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔کیونکہ المہند میں لکھا ٹھیک مگر اس وقت کا دیوبندی اپنے اکابر کو بدعتی و مشرک کہہ رہا ہے اور چار کفریہ عبارتوں کا بوجھ ان کے اکابر پر علیحدہ ہے جیسے المہند:
بارہواں سوال: محمد بن عبدالوہاب نجدی حلال سمجھتا تھا مسلمانوں کے خون اور ان کے مال و آبرو کو اور تمام لوگوں کو منسوب کرتا تھا شرک کی جانب اور سلف کی شان میں گستاخی کرتا تھا، اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اور کیا سلف اور اہل قبلہ کی تکفیر کو تم جائز سمجھتے ہو،یا کیا مشرب ہے؟
جواب: ہمارے نزدیک ان کا حُکم وہی ہے جو صاحب در مختار نے فرمایا ہے اور”خوارج“ ایک جماعت ہے شوکت والی جنہوں نے امام پر چڑھائی کی تھی تاویل سے کہ امام کو بطال یعی کفر یا ایسی معصیت کا مرتکب سمجھتے تھے جو قتال کو واجب کرتی ہے اس تاویل سے یہ لوگ ہماری جان و مال کو حلال سمجھتے ہیں اور ہماری عورتوں کو قید بناتے تھے۔ آگے فرماتے ہیں، ان کا حُکم باغیوں کا ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ ہم ان کی تکفیر صرف اسلئے نہیں کرتے کہ یہ فعل تاویل سے ہے اگرچہ باطل ہی سہی اور علامہ شامی نے اس کے حاشیے میں فرمایا ہے”جیسا کہ ہمارے زمانے میں عبدالوہاب کے تابعین سے سزد ہوا کہ ”نجد“ سے نکل کر حرمین شریفین پر متغلب ہوئے اپنے کو ”حنبلی مذہب“ بتاتے تھے مگر ان کا عقیدہ یہ تھا کہ بس وہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو وہ مشرک ہے۔۔ عبدالوہاب اور اس کا تابع کوئی شخص بھی ہمارے کسی سلسہ مشائخ میں نہیں ہے، نہ تفسیروفقہ و حدیث کے علمی سلسہ میں نہ تصوف میں۔۔۔(المہند صفحہ36-37-38)
حقیقت: رافضی جیسے پاکستان میں تفسیقی و تفضیلی پیر و علماء، نعت خوان، مفتی، ڈاکٹر، انجینئر کو استعمال کر رہے ہیں بعینہ اسی طرح سعودی وہابی علماء نے دیوبندی پیر، علماء اور مفتیان کو اہلسنت کے خلاف استعمال کیا حالانکہ المہند کے مطابق تو وہابی علماء خارجی ہیں اور خارجی کے نزدیک دیوبندی بدعتی و مشرک مگر موجودہ دور میں جھوٹ کا دوسرا نام ”دیوبندیت“ ہے جیسے پہلے نمبر پر رافضیت ہے۔
مذاق: بریلوی حضرات کا مذاق اُڑایا جاتا ہے کہ جب خانہ کعبہ میں نماز ہوتی ہے یہ لیٹرین میں چلے جاتے ہیں حالانکہ بریلوی نہیں بلکہ خلافت عثمانیہ والے اہلسنت ہیں جوامام کعبہ کے پیچھے نماز اسلئے ادا نہیں کرتے کہ لال رومال والے ان کو بدعتی و مشرک کہتے ہیں۔ دیوبندی وہابی ایجنڈے پر دھوکہ یہ دیتے ہیں کہ ”بریلوی“ رضا خانی، قبر پرست اور بدعتی و مشرک ہیں لیکن درحقیقت اپنے خلافت عثمانیہ والے اکابر کو بدعتی و مشرک کہتے ہیں ورنہ ان سے پوچھ لیں کہ المہند کی تصدیقات والے کون سے اہلسنت تھے؟
پوسٹ کا سوال: خانہ کعبہ میں اگر وہابی علماء کو اللہ کریم نے پسند کیا ہے تو کیا دیوبندی کو پیری مریدی دم درود، تعویذ دھاگے، حنفیت، المہند کے اکابر کو چھوڑ کر اور اہلحدیث کو غیرمقلدیت چھوڑ کر ”وہابی“ اور”حنبلی“ ہو کر اتحاد امت کا ثبوت نہیں دینا چاہئے؟
بہترین: دیوبندی وہی ہیں جن پر چار عبارتوں پر کفر کا فتوی ہے اور وہابی وہ ہیں جنہوں نے خلافت عثمانیہ کے 1200سالہ مقلد اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) کو بدعتی و مشرک کہا۔ اسلئے خلافت عثمانیہ والے عقائد اہلسنت و اعمال اہلسنت مسلمانوں کو سکھائیں تاکہ اتحاد امت پیدا ہو۔
تجدید ایمان: بریلوی علماء کی سب سے بڑی غلطی کہ عوام کو اہلسنت کی پہچان نہیں کروائی، فتاوی رضویہ میں لکھے اہلسنت کے عقائد و اعمال نہیں سکھائے۔ اسلئے مستحب اعمال (اذان سے پہلے درود، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام، قل و چہلم، تیجہ، دسواں، عرس، میلاد، قبر پراذان) جو نہیں کرتا اس کو دیوبندی کہنے والے اہلسنت نہیں رہتے بلکہ ان کو تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا ہو گا۔
خوفِ خدا: دعوت عام اور سرعام ہے کہ دیوبندی اور اہلحدیث ”مفاد پرستی“ چھوڑ کر اپنے مسلمان بھائیوں کو بدعتی و مشرک نہ کہیں بلکہ خلافت عثمانیہ، چار مصلے، اجماع امت کے قانون پر سب اکٹھے ہوں ورنہ قیامت والے دن کا عذاب مذہبی عوام اور علماء کے ساتھ عام و خاص سب کو بگھتنا پڑے گا۔
جن کا قرآن و سنت کے مطابق تقیہ، تبرا، معصوم، بدا کا عقیدہ تھ