
قربانی میں عقیقہ یا ایصالِ ثواب
عید قرباں پر کچھ مسائل ہمارے اپنے ہوتے ہیں اور کچھ مسائل علمی ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جب عید قرباں پر بڑا جانور ”گائے یا اونٹ“ لے لیتے ہیں جس میں سات حصے ہوتے ہیں تو اُن میں سے کچھ تو ایسے ہوتے ہیں:
۱) جن کے گھر کی عورت اور مرد اتنے مالدار ہوتے ہیں کہ ان پر قربانی لگتی ہے اسلئے وہ جس جس پر قربانی لگتی ہے وہ اُس کی طرف سے قربانی کر دیتے ہیں کیونکہ اہلسنت اُس حدیث پر نہیں ہیں جس میں لکھا ہے کہ ایک قربانی ایک گھر والوں کی طرف سے کافی ہے بلکہ ہمارے دلائل یہ ہیں کہ قربانی ہر ایک جو مالدار عورت ہو یا مر د جو آسانی سے قربانی کر سکتا ہو، اُس پر قربانی کے دنوں میں قربانی واجب ہے
۲) کچھ کے والدین کہہ کر گئے ہوتے ہیں کہ ہمارے مال سے، پھر سُن لیں ہمارے مال سے جو ہم دنیا میں چھوڑ کر گئے ہیں اُس میں سے قربانی کرنا، ایسی قربانی ان امیر آدمیوں کی طرف سے ہوتی ہے جو وصیت کر گئے ہوتے ہیں۔ اس قربانی کا گوشت صرف غریب آدمیوں میں تقسیم ہو گا کیونکہ وہ صدقہ ہے۔
تجویز: ہم نے یہ کام کیا کہ اگر قربانی کے حصوں میں سے حصے بچتے ہوں تو اپنے محلے کے غریب آدمی یا کوئی غریب دوست، کوئی غریب رشتے دار اُس کو بلایا اور کہا کہ قربانی میں ہمارے سات حصے ہیں اور یہ ایک حصہ تمہاری طرف سے ہو گا، مال ہمارا ہے مگر ہم تمہارے زندہ کے نام کی کرنا چاہتے ہیں، اسلئے تم یہ گوشت کا پورا حصہ لو گے اور اپنے جیسے غریبوں میں بانٹ دینا۔ایسی مثالیں بنانا ضروری ہیں۔
۳) کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تین حصے بڑے جانور میں قربانی کے ہو گئے ہیں تو باقی میں سے عقیقہ کر لیتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے، اہلسنت کے نزدیک کر سکتے ہیں، البتہ اہلحدیث کے ”امام“ جس کے غیر مقلد ”مقلد“ ہیں اُس کے قانون کے مطابق جو نبی کریم ﷺ کے دور میں نہیں ہوا اُس پر عمل نہیں کرنا اور ضعیف احادیث کو نہیں ماننا بلکہ صحیح احادیث میں نبی کریم ﷺ کی نہیں بلکہ میری تقلید کو نبی کریم ﷺ کی اتباع کہنا، ان کا بیانیہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے
دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتیں ہیں اور یہ بات دونوں جماعتوں کے جید علماء ملکر عوام کو بتا دیں تو غیر شرعی انداز میں عرس، میلاد، ایصالِ ثواب وغیرہ کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو رافضیت، خارجیت، قاد یانیت اور دیگر ہماری وجہ سے پروموٹ ہو رہے ہیں۔
اہلتشیع ختم نبو ت کے منکر اسطرح ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے کا حُکم ہے اور اتباع اُس کی کی جاتی ہے جس سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ باقی صحابہ کرام اور اہلبیت معصوم نہیں ہیں۔ حضور ﷺ کی تمام زندگی کا مطالعہ کرنے والے صحابہ کرام اور اہلبیت ہیں اور ان سب سے حضور ﷺ کی احادیث بیان ہوئیں مگر اہلتشیع 124000کو چھوڑ کر اہلبیت سے علم حاصل کرنے کے داعی ہیں۔
سوال:حضرات امام علی، حسن و حسین رضی اللہ عنھم نے کب آیت مباہلہ، حدیث کساء سُنا کر کہا کہ ہم معصوم ہیں اور حدیث غدیر خُم کا اعلان کرو کیونکہ امامت ہماری ہے حضرات ابوبکر، عمر و عثمان رضی اللہ عنھم غلط ہیں۔ اگر اعلان کیا ہے تو بتا دیں ورنہ جھوٹا کون؟ صرف بے دین اہلتشیع جھوٹا ہے جس کا تعلق رسول اللہ ﷺ کے دین سے نہیں ہے۔