
با غی یا قا تل کون؟
1۔ آج تک مسلمان بحث کر رہے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے قا تل کون تھے اور کونسے اسباب تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ یہ واقعہ ایک عام مسلمان کے قتل کا نہیں تھا بلکہ وقت کے اسلامی سربراہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ایک اسلامی سربراہ کے قتل کے واقعہ میں لازمی بات ہے وہی لوگ ملوث ہوتے ہیں جو حکومت کرنا چاہتے ہیں یا وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ عجیب واقعہ ہے کہ اس میں اکابر صحابہ (حضرات زبیر، طلحہ، علی رضی اللہ عنھم) میں سے کوئی بھی ملوث نہیں ہے بلکہ یہ سب بعد میں حیرت زدہ ہیں کہ ہوا کیا ہے؟
2۔ البتہ قاتل یا باغی اسقدر تیز تھے اور اُن کی تیاری حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے سے شروع ہوئی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پہلے 12 سال میں خاموشی سے یہ خفیہ تحریک چلی اور اس میں لازمی طور پر قیصر و کسری کے قیدی (لونڈیاں، غلام) جو خلوص سے مسلمان نہیں ہوئے، سیکرٹ ایجنٹ (ابن سبا)، جرائم پیشہ چور ڈاکو، اقتدار کے لالچی کم ظرف لوگ، نئی نسل کے متکبر متقی لوگ، یہودی و عیسائی ایجنٹ،نااہل نوجوان، سزا یافتہ لوگ جو انتقام لینا چاہتے تھے، سادہ لوح مخلص لوگ جو پراپیگنڈا سے متاثر تھے، مہاجرین و انصار کے قبائل کے خلاف ہزاروں لوگ شامل تھے۔
3۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں قفقاز، خراسان، کرمان، سیستان، افریقہ اور قبرص فتح ہوئے۔ اس دور میں کوئی بتا سکتا ہے کہ کون کون کہاں کا گورنر تھا؟ کونسا انفراسٹرکچر تھا؟ مجلس شوری کن صحابہ پر مشتمل تھی؟ کمپلینٹ سیل کونسا تھا؟ گورنر حضرات کو کون کون سے فیصلے کرنے کے اختیارات تھے؟ تاریخ کے اس دور میں جب کتابیں موجود نہیں ہیں اور کتابیں بعد میں لکھی گئیں اور زیادہ تر شیعہ مورخین نے لکھیں اور جن کا اثر اہلسنت کی کتابوں میں بھی نظر آتا ہے تو کوئی کیسے بتا سکتا ہے؟
4۔ یہ تو تاریخ بتاتی ہے کہ باغی بصرہ، کوفہ اور مصر سے اُٹھے تھے اور مدینہ منورہ میں بھی اُن کے پشت پناہی کرنے والے موجود تھے۔ سُرغنہ چند ایک تھے مگر تعداد عوام کی ہزاروں میں ضرور تھی۔ قاتلین میں نہیں بلکہ باغی حضرات میں عبداللہ بن سبا، مالک بن الحارث الاشتر نخعی، محمد بن ابی بکر، کنانہ بن بشر، کمیل بن زیاد، عمیر بن ضابی، محمد بن ابی خذیفہ، حکیم بن جبلہ، ابن المخرش، حرقوص بن زھیر، ذریح بن عباد کا تاریخ نے نام لیا۔ چند صحابہ کے نام جیسے جہجاہ الغفاری،عمرو بن الحمق، عبدالرحمن بن عدیس بھی کمزور روایات میں لیا گیا مگر صحابی تاریخ سے نہیں قرآن و سنت سے ایمان میں شامل ہیں لیکن صحابہ کرام اور اہلبیت میں معصوم کوئی نہیں۔
5۔ تاریخ میں گُنجل ہیں اور جب قاتلین عثمان کا علم (سزا دینے کے لئے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے) ہی نہیں ہو سکا تو سزا کس کو دی جاتی اور باغی حضرات میں سے کسی نے بھی قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کی ذمہ داری نہیں لی۔ عوام کہتی ہے ہمیں ثبوتوں کے ساتھ بتایا جائے کہ کون کون اس قتل میں شامل تھا لیکن اگر پوچھا جائے کہ بتانا کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کئی مارے گئے تو تلاش کر لئے قا تل یا با غی جنہوں نے مارا مگر جواب نہیں دیتے۔ بابا ثبوتوں اور گواہوں کے بغیر پھانسی نہیں ہوتی، جمل و صفین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کو گرفتار کرنے کے چکر میں تھیں۔
6۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد باغی ختم نہیں ہوئے بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بننا نہیں چاہتے تھے مگر باغیوں کی حمایت ان کے ساتھ تھی، حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنھما اور بدری صحابہ سے زبردستی بیعت لی گئی مگر یہ سب تاریخی حوالے ہمارے نزدیک معتبر نہیں ہیں۔
حل: البتہ عثمانیہ خلافت، چار مصلے اجماع امت، اہلسنت علماء کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے قرآن، احادیث، تاریخ، کمزور و مضبوط روایات پڑھ کر مشاجرات صحابہ (صحابہ کے آپس کے معاملات) کا قانون بنا دیا تاکہ صحابہ کرام اور اہلبیت کی جمل و صفین، آپس میں اجتہادی اختلاف پر خاموشی اختیار کی جائے اور ابحاث بند ہوں مگر ناصبی، مرزا اور رافضی کے لئے قابل قبول نہیں ہو گا۔
7۔ فتنے کے اُس دور میں احادیث کی کتابیں نہیں تھیں، البتہ حضرات ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عائشہ، امیر معاویہ اور حسن رضی اللہ عنھم نے قرآن و سنت کے مطابق اجتہاد کیا۔ آجکل جو فدک، قرطاس، ثقلین، غدیر، باغی،جمل، صفین والی احادیث سُنا کر اہلبیت کے ساتھ ہیں یہ دراصل اسلام کا باغی گروپ ہے جو قرآن و احادیث کا مفہوم بدل (twist) دیتا ہے لیکن ان کا تعلق نہ تو صحابہ کرام سے ہے اور نہ ہی اہلبیت سے ہے۔ اس کو سمجھنے کے لئے چند سوال ہیں:
۱) قرآن حضور ﷺ پر نازل ہوا اور کیا حضور ﷺ چلتا پھرتا قرآن نہیں تھے؟اہلتشیع قرآن کی تشریح حضور ﷺ کی کونسی احادیث سے کرتے ہیں؟
۲) حضور ﷺ کو صحابہ کرام اور اہلبیت نے دیکھا، سُنااور سمجھا، کیا انہوں نے حضور ﷺ کے بعد قرآن و سنت پر عمل نہیں کیا؟ اگر نہیں کیا تو کس نے نہیں کیا اور وہ ”احادیث“ اہلتشیع کو کس صحابی یا تابعی نے سکھائیں؟
۳) باغ فدک، حدیث قرطاس، حدیث ثقلین اور غدیر خُم کے راوی اہلبیت نہیں بلکہ صحابہ کرام ہیں، قرآن کو اکٹھا کرنے والے صحابہ کرام ہیں تو کیا صحابہ کرام نے اہلبیت پر ظُلم کیا؟ اہلبیت کو ایک طرف معصوم اور دوسری طرف تقیہ باز کس نے بنایا؟
۴) دین حضور ﷺ کا، اتباع حضور ﷺ کی جو صحابہ کرام اور اہلبیت نے قرآن و سنت کے مطابق کی تو یزید کو بھی کا فر کہا گیا کیونکہ دین کے خلاف کام کیا اور اہلتشیع بھی کا فر کیونکہ باغی گروپ ہے۔
تجزیاتی رپورٹ
1۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے لے کر امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے باغی گروپ ہیں۔ جمل و صفین کے جنازے پڑھانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں اور نہروان کے باغیوں کو جلانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو باغیوں کی سمجھ آہستہ آہستہ آ گئی، اسلئے پہلے دارالخلافہ کوفہ مقرر کیا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صُلح کی تو باغی گروپ کھڑا ہو گیا جن کو نہروان پر ختم کیا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بیعت اور صُلح کر کے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو نہیں بلکہ اسلام کو مضبوط کیا۔
2۔ امام حُسین رضی اللہ عنہ کے قاتل بھی باغی اہلتشیع گروپ ہے لیکن پراپیگنڈا باغ فدک کا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر جلانے کا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کا حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھم سے ناراضگی کا، حدیث قرطاس کا، یہ کہنا کہ صحابہ بچے تھے جو باغیوں کو سمجھ نہ سکے، پھر کہنا کہ کربلہ میں صحابہ کیوں نہ گئے۔ پھر بنو امیہ کو اہلبیت کے روپ بہروپ میں ذلیل کرنا دراصل اسلام کو بدنام کرنا ہے۔
3۔ اسلئے حضور ﷺ کے منکر اہلتشیع ہیں کیونکہ ان کی کوئی احادیث کی کتابوں کو نہیں مانتے تو حضور ﷺ کی اتباع کیسے کریں گے؟ صحابہ کرام کو نہیں مانتے تو حضور ﷺ کی احادیث اہلبیت سے کیسے لیں گے جب کہ چاروں اہلتشیع کے معصوم (حضرات فاطمہ، علی، حسن و حسین) رضی اللہ عنھم نے حضرات ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنھم کے 25 سالہ دور میں نہ امامت اور نہ معصومیت کا اعلان کیا۔ جمل و صفین میں کونسی سرکار ﷺکی احادیث کونسے صحابہ یا تابعین کو حضرت علی نے سکھائی وہ بتا دیں؟
4۔ موجود دور میں بھی اہلتشیع حضرات مضبوطی کے ساتھ اہلسنت پر غلبہ حاصل کر رہے ہیں کیونکہ مشاجرات صحابہ کا قانون توڑ کر انجینئر و ڈاکٹر، مفتی و تفسیقی و تفضیلی پیر حضرات بیان کر رہے ہیں۔ اہلبیت کے دشمنوں پر۔۔، غدیری، ملنگی، علی دا پہلا نمبر، عرس ابو طا لب کرنے والے یہی ہیں۔
حل: بہت بہترین حل ہے کہ دیوبندی اور بریلوی انانیت چھوڑ کر اعلان کر دیں کہ دونوں جماعتیں پیری مریدی، دم درود، تعویذ دھاگے، ذکر ولادت، مقلد حنفی ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء +اہلحدیث حضرات نے بدعتی و مشرک کہا، البتہ بریلوی اور دیوبندی کا اصولی اختلاف دیوبندی علماء کی کف ریہ عبارتیں ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو قیامت والے دن مذہبی عوام و علماء مجرم ہیں۔