
ھُنڈی یا حوالے کا کاروبار
جس مُلک میں کوئی قانون نہ ہو، قانون نافذ کرنے والے ادارے کرپٹ ہوں، ڈالر مارکیٹ سے غائب کر دیا جائے، سارے بڑے بڑے ادارے اور کُرسیاں صرف اپنا سوچ رہی ہوں لیکن مُلک کو اللہ کریم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے وہاں ہر کوئی اپنی مرضی کرتا ہے، اُس میں نقصان بھی اُٹھاتا ہے اور کبھی فائدہ بھی اُٹھاتا ہے۔
ھُنڈی یا حوالہ، دو نام مگر کام ایک ہے، اس کاروبار میں عوام پاکستانی قانون توڑ کر، بینک کے ذریعے رقم نہیں بھیجتی کیونکہ اس پر رقم کی کٹوتی زیادہ ہو جاتی ہے یا بعض اوقات دیر سے رقم پہنچتی ہے، اسلئے ہر مُلک میں ایسے ایجنٹ موجود ہوتے ہیں جن پر فون کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے اور اُن کو کہا جاتا ہے کہ آپ کے گھر یا اکاونٹ میں اتنی پاکستانی رقم پہنچ جائے گی، آپ اتنی رقم ڈالر، ریال، ین وغیرہ کی صورت میں فلاں کو دے دیں۔
حکومت ھنڈی کا باقاعدہ کام کرنے والوں کی بعض اوقات پشت پناہ بھی ہوتی ہے اور وقت پڑنے پر ان کو قابو بھی کر لیتی ہے۔ اسی طرح ہر مُلک کے ایجنٹ آپس میں رضا مندی سے کام بھی کر لیتے ہیں مگر بعض اوقات دھوکہ بھی ہو جاتا ہے۔ علماء کرام نے حوالہ اور ھُنڈی کے کام کو مختلف صورتوں میں جائز اور بعض صورتوں میں ناجائز بھی قرار دیا ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں سوائے اس کے کہ بینک پیسے نہیں بنا سکتا اور دوسرا مڈل مین اس میں کچھ پیسے بنا لیتا ہے۔
اس کاروبار کرنے والوں کو یہ دیکھنا ہو گا:
1۔ ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانونی طور پر ممنوع نہ ہو۔
2۔ دونوں طرف رقم کا وقت ایک ہی ہو اور دونوں ہی اپنے اپنے مال پر قبضہ کر لیں تو زیادہ بہتر ہے۔ معاملہ کرنے والوں میں سے کسی ایک کا اس وقت میں رقم پر قبضہ بھی ہو۔
3۔ اگر اُدھار پر ہو تو دونوں ملکوں کی کرنسیوں کے تبادلہ کا معاملہ اس دن کے بازاری ریٹ پر ہو، بازاری ریٹ سے کم یا زیادہ نہ ہو۔ مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ طے کر کے لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔
4۔ بطورِ اجرت مڈل میں الگ سے طے شدہ اضافی رقم لے سکتا ہے