
مرنے کے بعد غسل دینا
خاوند اور بیوی مرنے سے پہلے ایک دوسرے کے جسم کو چھو سکتے ہیں مگرخاوند کے مرنے کے بعد عورت اُس کو غسل دے سکتی ہے لیکن بیوی کے مرنے کے بعد خاوند اُسے غسل نہیں دے سکتا۔ اس کے دلائل یہ ہیں:
1۔ جب بیوی فوت ہو جاتی ہے تو خاوند سے اس کا نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور نکاح کے اثرات بھی نہیں ہوتے (نکاح کا اثر وفات کے بعد عدت کا لازم ہونا ہے اور بیوی کے فوت ہونے کی صورت میں خاوند پر عدت لازم نہیں آتی) اب خاوند کی حیثیت بیوی کے لیے ایک اجنبی کی سی ہے۔ جس طرح اجنبی آدمی اس عورت کو نہ چھو سکتا ہے اور نہ ہی غسل دے سکتا ہے اسی طرح یہ خاوند بھی نہ اس عورت کو چھو سکتا ہے اور نہ ہی غسل دے سکتا ہے۔
2۔ بیوی کے فوت ہونے پر نکاح ٹوٹ جانے کی دلیل یہ ہے کہ بیوی جب تک نکاح میں ہے اس کی بہن سے نکاح نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر بیوی فوت ہو جائے تو وفات کے فوراً بعد اس کی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے۔
3۔ اگر خاوند فوت ہو جائے تو بیوی پر نکاح کے اثرات عدت گزرنے تک باقی رہتے ہیں، اسلئے وہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی اور عورت مرد کو غسل دے سکتی ہے:
ابن ماجہ 1464: ام المؤمنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم ﷺ کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔
سیدنا ابوبکر کو ان کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی نے غسل دیا تھا۔ (التمہید لابن عبد البر: ج1 ص380)
خاوند کا بیوی کو غسل دینے کے بارے میں احادیث اور ان کی شرح:
ابن ماجہ 1465: سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بقیع سے واپس آئے، تو مجھے درد ِ سر میں مبتلا پایا، میں شدت درد سے کہہ رہی تھی: ”ہائے میرا سر!!“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں عائشہ ! میں کہتا ہوں: میرا سر!! پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم مجھ سے پہلے فوت ہوجاؤ تو تمہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا، میں ہی تمہیں غسل دوں گا، کفن پہناؤں گا اور جنازہ پڑھ کر دفن کروں گا۔
صحیح مفہوم: حضور ﷺ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے نکاح میں آنے کے بعد امہات المؤمنین دنیا و آخرت میں آپ کی زوجات ہیں حتی کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی وہ آپ ﷺ کی بیویاں رہی ہیں جیسے ترمذی 3880: سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک ریشمی سبز کپڑے میں میری تصویر لپیٹ کر آپ ﷺ کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہے۔ اسلئے اگر نبی کریم ﷺ غسل دیتے تو یہ جائز تھا۔
2۔ سیدنا علی نے سیدہ فاطمہ کو بعد از انتقال خود غسل دیا تھا۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی: 6905) اس میں تین احادیث موجود ہیں:
سیدنا علی نے غسل دیا تھا۔ (معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج 5 ص 232)
اسماء بن عمیس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی دونوں نے مل کر غسل دیا تھا۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی: حدیث نمبر 6905)
سوم : سیدہ فاطمہ نے انتقال سے پہلے غسل فرمایا اور نئے کپڑے پہنے اور فرمایا کہ: ”میں رُخصت ہو رہی ہوں، میں نے غسل بھی کرلیا ہے، اور کفن بھی پہن لیا ہے، مرنے کے بعد میرے کپڑے نہ ہٹائے جائیں۔“ یہ کہہ کر قبلہ رُو لیٹ گئیں اور رُوح پرواز کرگئی، ان کی وصیت کے مطابق انہیں غسل نہیں دیا گیا۔ (مصنف عبد الرزاق: ج 3 ص257 حدیث نمبر6151 وغیرہ)
ان احادیث میں تعارض کی وجہ سے قانون بنانا مشکل ہو گا۔ اسلئے کہا جاتا ہے کہ سیدہ فاطمہ کو غسل حضرت ام ایمن نے دیا تھا، لہذا جس روایت میں ہے کہ سیدہ علی نے غسل دیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے غسل دینے میں ام ایمن کا تعاون کیا تھا مثلاً سامان غسل کا انتظام وغیرہ انہوں نے کیا تھا۔
اگر سیدنا علی کا غسل دینا تسلیم بھی کر لیا جائے تو اس وجہ سے ہے کہ کہ سیدہ فاطمہ دنیا اور آخرت میں سیدنا علی کی بیوی ہیں، یہ اسی طرح کی بات ہوئی جیسی سیدہ عائشہ کے بارے میں موجود ہے۔
اسلئے رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیاں: حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن جو آنحضرت ﷺ کی حیات ہی میں فوت ہوئیں، ان میں سے کسی کے بارے میں ہمیں یہ بات نہیں پہنچی کہ ان کو ان کے خاندوں نے غسل دیا ہو۔
نتیجہ: بہتر یہی ہے کہ مرد مرد کو غسل دے اور عورت عورت کو غسل دے اور اسی طریقے سے دے جیسا کہ علماء کرام نے احادیث سے اکٹھا کر کے بتایا ہے۔
بیوی کی وفات کے بعد شوہر کو صرف غسل دینے و بلاحائل چھونے کی ممانعت ہے باقی چہرہ دیکھنا ، کندھا دینا ، قبر میں اتارنا وغیرہ تمام امور جائز ہیں یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ شوہر اپنی بیوی کے جنازے کو نہ کندھا دے سکتا ہے ، نہ قبر میں اتار سکتا ہے ، نہ اس کا چہرہ دیکھ سکتاہے یہ سب باتیں محض غلط لغو و فضول ہیں ان کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔