
غیر محفوظ Insecurity
والدین، خاوند،اولاد، بہن بھائی اور رشتے داروں کے ہوتے ہوئے بھی ہر کوئی غیر محفوظ کیوں ہے؟
شاید اسلئے کہ ہم سب اپنے لئے کماتے اور جیتے ہیں
شاید اسلئے کہ ہم اپنوں سے مقابلہ کرتے جیتے ہیں
شاید اسلئے کہ ہم خود کو محفوظ رکھنے کے لئے دوسروں کو غیر محفوظ کر دیتے ہیں
شاید جن کے پاس پیسہ نہیں وہ پیسہ نہ ہونے پر غیر محفوظ ہیں
شاید جن کے پاس پیسہ ہے وہ پیسے کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں یا
شاید اسلئے کہ جان و مال لگا کر ہم نے سب کو محفوظ کرنا تھا مگر سب کچھ اپنے اوپر لگا کر غیر محفوظ ہیں
شاید سب سے پہلے اپنی ذات، پھر اپنی ذات، پھر اپنی ذات ہی بندے کو غیر محفوظ کر دیتی ہے
بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا
اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں
البتہ ہر وہ رشتہ بہت پیارا ہے، جس کے احساس سے ہی آپ کو قوت ملے اور اُس کے مرنے کی سوچ پریشان کرے۔ البتہ جو ہمیشہ حیی و قیوم ہے اُس کا فرمان ہے:
سورہ زمر 36: اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ ؕ وَيُخَوِّفُوۡنَكَ بِالَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا دوسرے سے ڈرا رہے ہیں اور جس کو اللہ گمراہی پر چھوڑ دے اس کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔
1۔ علمائے امّت کا اتفاق ہے کہ رشتے ناطے نبھانا واجب اور قطع رحمی حرام ہے، احادیث میں بغیر کسی قید کے رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور ان سے تعلق جوڑے رکھنے کا حکم آیا ہے۔ صحیح بخاری 5986: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو چاہتا ہو کہ اس کے رزق میں فراخی ہو اور اس کی عمردراز ہو تو وہ صلہ رحمی کیا کرے۔
2۔ صلہ رحمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ رشتے داروں سے ان کے رویے کے مطابق سلوک کیا جائے، اگر ایسا کیا جائے تو یہ درحقیقت مکافات یعنی ادلا بدلا ہے کہ کسی رشتے دار نے تحفہ بھیجا تو اس کے بدلے تحفہ بھیج دیا، وہ آیا تو بدلے میں اس کے پاس چلے گئے۔ حقیقتًا صلہ رحمی یہ ہے کہ رشتے دار تعلق توڑنا چاہے تو اس تعلق کو بچانے کی کوشش کی جائے، وہ جدائی چاہے، بے اعتنائی برتے تب بھی اس کے حقوق و مراعات کا خیال رکھا جائے کیونکہ وفا ہوتی ہی بے وفا کو وفادار بنانے کے لئے ہے۔
صحیح بخاری 5991: کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں ہے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ نہ کیا جا رہا ہو تب بھی وہ صلہ رحمی کرے یعنی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلہ چُکائے، بلکہ وہ ہے کہ جب اس سے رشتہ توڑا جائے تو وہ اسے جوڑ دے۔
ترمذی 2007: تم لوگ ہر ایک کے پیچھے دوڑنے والے نہ بنو یعنی اگر لوگ ہمارے ساتھ بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر ہمارے اوپر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے، بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ کرو کہ اگر لوگ تمہارے ساتھ احسان کریں تو تم بھی احسان کرو، اور اگر بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو“۔
خلاصہ کلام: صلہ رحمی ہر مسلمان پر واجب ہے۔ رشتے داروں کی بے اعتنائی، ناشکری اور زیادتی کے باوجود ان سے حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے، تاہم قرآن و سنت کے احکام کی روشنی میں قطع رحمی کرنے والے رشتے داروں کے متعلق تین طرح کے رویے ہوسکتے ہیں:
(1) کوئی رشتے دار اگر زیادتی کرے تو زیادتی کا بدلہ لے لیا جائے، تعلقات منقطع نہ کیے جائیں کریں مگر میل جول بھی نہ رکھا جائے۔ مطلب یہ کہ اگر کہیں ملاقات ہو جائے تو سلام دعا کرنے کی صورت باقی رہے۔
(2) ایسے رشتے دار کے ساتھ صرف غمی اور خوشی کا تعلق رکھا جائے اور عام حالات میں اس سے میل ملاقات نہ رکھی جائے۔ تاہم اگر کوئی شدید ضرورت سامنے آجائے تو اس کی مدد سے بھی گریز نہ کیا جائے۔
(3) ایسے رشتے داروں کی زیادتیوں کو نظر انداز کیا جائے اور ان سے حسن سلوک اور مہربانی کا برتاؤ جاری رکھا جائے۔
ان میں سے پہلا رویہ اختیار کرنے پر انسان گناہ گار نہیں ہوگا، دوسرے رویے کا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کے مواقع ضائع نہیں ہوں گے اور تیسرا رویہ احسان کا ہے جو فضیلت کا باعث ہے۔ اللہ کی رضا زیادہ زیادہ حاصل کرنا پیش نظر ہو تو اسی تیسرے کو اختیار کرنا چاہیے۔
4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے عزیز کے ساتھ تعلق رکھنا چاہتے ہیں مگر وہ سلام کا جواب بھی نہیں دیتا۔ ہم بھلائی کرتے ہیں اور وہ ہم سے برائی کرتے ہیں۔ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ وفا ہوتی ہے بے وفا لوگوں کے لئے ہے۔ اسلئے قانون یہ رکھیں کہ آپ نے ہی سب رشتوں سے بہتر تعلقات نبھانے ہیں۔
5۔ تعلقات میں رشتے کی نوعیت دیکھنی پڑتی ہے کیونکہ بعض تعلقات بہت حساس قسم کے ہوتے ہیں جیسے والدین کی نافرمانی گناہ کبیرا ہے۔ البتہ شریعت کا علم والدین کو دینا بھی ضروری ہے اور والدین اگر دین پر چلنے نہ دیں تو حکم یہ ہے کہ گناہ کا حکم والدین بھی دیں تو نہیں ماننا۔ اسلئے والدین کی ضد کے سامنے حکمت عملی سے اپنی دین و دنیا بچانی ہو گی۔