
احادیث سے سازشی بیانیہ
14 اور 12 کے تبرا، تقیہ، بدا، عقیدے والے، دو نمبر دین والے اہلتشیع حضرات، اکثر کتب اربعہ سے نہیں بلکہ صحیح بخاری 2812 کا حوالہ دیتے ہیں:
صحیح بخاری 2812: "حضرت عمار رضی اللہ عنہ مسجد بناتے ہوئے دو دو اینٹیں اُٹھا رہے تھے جب کہ دوسرے صحابہ ایک ایک اینٹ اُٹھا رہے تھے، نبی کریم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا: افسوس۔ عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔”
ظاہری مفہوم: اسلئے سیدھا سادا مفہوم بنتا ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو باغی جماعت شہید کرے گی۔ اگر ایک حدیث کے بیانئے سے سازش جائز ہے تو پھر یہ بھی دو نمبر دین اہلتشیع کو کہنا چاہئے:
صحیح بخاری 1127: "حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایک رات ان کے اور فاطمہ کے پاس حضور ﷺ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔ ہماری اس بات پر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے۔ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ ﷺ ران پر ہاتھ مار کرفرما رہے تھے (سورہ کہف کی آیت) و کان الانسان اکثر شئی جدلا ترجمہ: لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے“۔ اس آیت سے مفسرین کہتے ہیں وہ لوگ مراد ہیں جو قرآن پر اعتراض کرتے ہیں۔
ظاہری مفہوم: اب اس حدیث کے مطابق کوئی یہ کہے کہ معاذ اللہ حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنھما دونوں جھگڑالو تھے تو بےایمان ہو جائے گا بلکہ اُس کو گستاخ اہلبیت بھی کہا جائے گا۔ اسلئے بخاری و مسلم میں محدثین احادیث لاتے ہیں مگر احادیث کی شرح اہلسنت علماء کرام اسطرح کرتے ہیں:
مسلم 2458: ”جب مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہو جائے گا تو ان (مسلمانوں کی دونوں اختلاف کرنے والی جماعتوں) کے بیچ میں سے ایک گروہ نکلے گا اور اس گروہ کے ساتھ جو مسلمانوں کی جماعت لڑائی کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہو گی“۔
صحیح ابن حبان 6744: ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے پھر ان دونوں گروہوں کے درمیان میں سے ایک الگ گروہ نکلے گا پھر اس (مسلمانوں کی دو جماعتوں کے بیچ سے) نکلنے والے (گروہ) سے جو مسلمان (جماعت) لڑائی کرے گی وہ حق کے زیادہ قریب ہو گی“۔
صحیح ابن حبان 6749: نبی کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کا تذکرہ کیا جو اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے گا، آپ ﷺ نے فرمایا ان کی نشاندہی ٹنڈ ہو گی وہ سب سے برے انسان ہیں یا وہ سب سے بری مخلوق ہیں (مسلمانوں کی) دو جماعتوں میں سے انہیں جو قتل کرے گا وہ حق کے زیادہ قریب ہو گا۔
شرح احادیث: ان دو مسلمان جماعتوں سے مراد حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنھما کی جماعتیں ہیں۔ اسلئے امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: بیچ میں ہونے والے اختلاف سے مراد حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنھما کا آپس کا اختلاف ہے اور جو گروہ انکے بیچ سے نکلا وہ خوارج کا گروہ ہے۔ خوارج سے لڑائی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کی اسلئے بھی وہ حق پر ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے (مسلمانوں کے بیچ سے نکلنے والے تیسرے گروہ خارجیوں) اس گروہ سے لڑائی کی اور میں ان کے ساتھ تھا“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صفین کے مقتولین کے بارے میں پوچھا گیا کہ انکا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہمارے اور ان کےمقتولین جنت میں جائیں گے، باقی یہ معاملہ میرا یا معاویہ کا ہے۔ (ابن ابی شیبہ ج 7 ص 552) اور جمل کے مقتولین کو بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا بھائی کہا (ابن ابی شیبہ ج7، ص 535)
تجزیہ: جمل اور صفین والے جنتی ٹھرے اور نہروان والے قاتلین عثمان، خارجی و سبائی و ایرانی تھے۔ امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”حدیث عمار“ دلیل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر ہیں اور دوسری جماعت باغی ہے مگر وہ مجتہد ہیں اسلئے ان پرکوئی گناہ نہیں“۔
مزید تشریح: حدیث عمار میں ہے”عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی“ کا مطلب ہے کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے سامنے حق واضح تھا اور جب انسان کے سامنے حق واضح ہو جائے پھر بھی حق کو چھوڑ کر جائے تو جہنم میں جائے گا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر کے سامنے یہ حق واضح نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے فی الفور قصاص نہ لینے کی وجہ سے خطا پر تصور کرتے تھے۔
بخاری 2732: ”صلح حدیبیہ کے وقت عروہ جب بھی حضورﷺ کی داڑھی کو رواج کے مطابق ہاتھ لگانے لگتا تو تل وار لٹکائے، سر پر خود پہنے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کا ہاتھ جھٹک کر دور کرتے اور صلح حدیبیہ کے صحابہ کرام کے متعلق اللہ کا فرمان ہے: یقینا اللہ تعالی مومنوں سے خوش ہو گیا جبکہ وہ درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ان کے دلوں میں جو تھا اسے (اللہ) نے جان لیا اور ان پراطمینان نازل فرمایا اور انہیں قریب کی فتح عنایت فرمائی۔ (الفتح 18) مسلم 6404: ”اصحاب شجرہ (درخت والوں) کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں داخل نہ ہو گا“۔
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کئی اور بزرگ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکرمیں موجود تھے تو قرآن و سنت کا کون انکار کرے گا؟؟
بخاری 6875: ”دو مسلمان جب آپس میں تل واروں کے ساتھ لڑتے ہیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں“ لیکن امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ خون جو صحابہ کے بیچ میں اختلافات کی وجہ سے بہے تھے، نبی کریم ﷺ کے اس وعید کے اندر داخل نہیں۔ اہلسنت اور اھل حق کا مذہب یہی ہے کہ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھا جائے، اور جو ان کے بیچ میں اختلافات ہوئے اس حوالے سے خاموش رہا جائے، ان کے بیچ میں جو لڑائیاں ہوئیں تھیں اس حوالے سے (صحیح) توجیہ بیان کی جائے۔
بے شک وہ سارے کے سارے مجتہد اور توجیہ کرنے والے تھے اور ان کا نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی دنیا کی لالچ تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر جماعت کا یہی خیال تھا کہ وہ حق پر ہیں اور اس کا مخالف باغی ہے اسلئے ان سے ق تال کرنا واجب ہے تاکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ کچھ ان میں سے درست تھے اور کچھ ان میں سے اجتہادی خطا کی وجہ سےمعذور ہیں کیونکہ یہ غلطیاں اجتہاد کی وجہ سے صادر ہوئیں اور مجتہد جب اجتہاد کرتا ہے اس سے خطا صادر ہو جائے تو (پھر بھی اسےثواب ملتا ہے) اور اسکی غلطی پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (شرح مسلم)
عقیدہ: اہلسنت کا عقیدہ یہ بنا کہ جمل اور صفین کے مقتولین جنتی ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اہلتشیع دو نمبر دین ہے جو کربلہ تک تو موجود نہیں تھا بلکہ انڈر گراونڈ تھا اور بعد میں کتب اربعہ سے، نبوت کی تعلیم چھوڑ کر، امام جعفر و باقر کے منگھڑت اقوال سے وجود میں آ کر مسلمانوں کے خلاف ایک نیاد ین بنایا۔