
اگر ہم حضور کی بیٹیوں کو نہیں مانتے تو۔۔
1۔ قرآن کا انکار
سورہ احزاب 59: اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں یہ بات اس کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
نتیجہ: اس آیت میں اللہ تعالی نے بنات کا لفظ ذکر کیا ہے جو ایک سے زائد پر بولا جاتا ہے، گویا قرآن کی آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں، صرف فاطمہ ہی اکیلی بیٹی نہیں ہے بلکہ سیدہ زینب، رقیہ اور ام کلثوم بھی آپ کی بیٹیاں ہیں۔
2۔ حضور ﷺ کے نسب کا انکار
سورہ احزاب 73: انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔
نتیجہ: بعض شیعہ بکتے ہیں کہ سیدنا عثمان کی دونوں بیویاں، سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم، نبی اکرم ﷺ کی بیٹیاں نہیں بلکہ وہ سیدہ خدیجہ کی پہلے خاوند سے ہونے والی بیٹیاں ہیں۔ وہ قرآن کی اس آیت کے خلاف ہیں کہ کسی اور کے نام سے پُکارتے ہیں۔
3۔ احادیث کا انکار
حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ کے نبی کریمﷺ کی طرف سے چھ بچے ہیں: (شہزادوں میں) حضرت عبد اللہ اور حضرت قاسم ہیں اور (شہزادیوں میں) حضرت زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ ہیں اور نبی کریم ﷺ کے ایک شہزادے حضرت ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ سے ہیں۔(مجمع الزوائد، جلد 9، کتاب المناقب،صفحہ 217)
نبی کریم ﷺ کی طرف سے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ کی اولاد حضرت قاسم، طاہر، فاطمہ، زینب، ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہم ہیں۔(مصنف عبد الرزاق: 14009)
حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ ہم آپ ﷺ کی شہزادی کو غسل دے رہی تھیں۔(صحیح بخاری: 1257)
اسمیں بھی کسی ایک بیٹی کا ذکر ہے۔
4۔ سیرت و طبقات کی کتب کا انکار
حضور ﷺنے سیدہ خدیجہ سے شادی کی اور آپ ﷺ کی حضرت خدیجہ کے بطن سے چار شہزادیاں ہوئیں اور وہ حضرت زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ (سیرۃ ابن اسحاق، باب زواج النبی من خدیجۃ،صفحہ 245)
نبی کریم ﷺ کی چار صاحبزادیاں ہیں: زینب، رقیہ، ام کلثوم اور حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہن۔ (المواب اللدنیہ، جلد 4، صفحہ313)
سیدہ زینب نبی کریم ﷺکی شہزادی ہیں اور آپ کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد ہیں اورآپ نبی کریمﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی ہیں ۔(الطبقات الکبریٰ، ذکربنات رسول اللہ ﷺ، جلد8، صفحہ 25)
سیدہ رقیہ، نبی کریم ﷺ کی شہزادی ہیں اور آپ کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (الطبقات الکبریٰ، ذکربنات رسول اللہ ﷺ، جلد 8، صفحہ 29)
سیدہ ام کلثوم، نبی کریم ﷺ کی شہزادی ہیں اور آپ کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد ہیں۔(الطبقات الکبری، ذکربنات رسول اللہ ﷺ، جلد08، صفحہ 30)
سیدہ فاطمہ، نبی کریم ﷺ کی شہزادی ہیں اور آپ کی والدہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (الطبقات الکبری، ذکرب بنات رسول اللہ ﷺ، جلد 08، صفحہ16)
نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ سے پچیس سال کی عمر میں شادی کی۔۔۔۔ اور سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سے نبی کریم ﷺ کی اولاد حضرت زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔(الثقات لابن حبان، جلد 1، صفحہ 46)
نبی کریم ﷺ کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ کے بطن سے ہے سوائے حضرت ابراہیم کے جو حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سے چار حقیقی شہزادیاں ہیں، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 1، صفحہ 50)
5۔ تاریخ کی کتب کا انکار
حضرت حکیم بن حزام نے فرمایا : جب نبی کریم ﷺ نے حضرت خدیجہ سے شادی کی تو آپ ﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی اور سیدہ خدیجہ کی عمر مبارک چالیس سال تھی اور آپ کے بطن سے حضور ﷺ کے شہزادے حضرت قاسم، طیب، طاہر، زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ولادت ہوئی۔ (البدایۃ والنھایۃ، جلد 8، صفحہ 204)
نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ سے شادی کی اور نبی کریم ﷺ کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سےہوئی، سوائے حضرت ابراہیم کے، اور وہ یہ ہیں: حضرت زینب، رقیہ ،ام کلثوم، فاطمہ، قاسم اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت (ابو القاسم )ہے، طاہر اور طیب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ (تاریخ الطبری، جلد 2، صفحہ 281)
نبی کریم ﷺ کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سے ہے، سوائے حضرت ابراہیم کے، اور وہ یہ ہیں: (شہزادوں میں) حضرت قاسم، طیب، طاہر اور یہ بچپن میں بعثت سے قبل ہی وفات پا گئے، اور (شہزادیوں میں) حضرت رقیہ، زینب، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ (علامہ شمس الدین ذہبی، تاریخ الاسلام، جلد 1، صفحہ 66)
نبی کریم ﷺ کی حضرت خدیجہ کے بطن سے اولاد حضرت قاسم ہیں اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت ہے اور حضرت طیب،حضرت فاطمہ، حضرت زینب، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں۔ (علامہ دینوری، المعارف، جلد 1، صفحہ 141)
نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ سے شادی کی اور نبی کریم ﷺ کی تمام اولاد سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سےہوئی، سوائے حضرت ابراہیم کے، سیدہ خدیجہ کے بطن مبارک سےآپ کی اولاد امجاد یہ ہیں: حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ، حضرت قاسم اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت ہے اور حضرت عبد اللہ، حضرت طاہر، حضرت طیب رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔ (الکامل فی التاریخ، جلد 1، صفحہ 640 )
نبی کریم ﷺ کے ہاں سب سے پہلے ولادت حضرت قاسم کی مکہ شریف میں اعلان نبوت سے قبل ہوئی اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت ہے، پھر آپ کے ہاں حضرت زینب، پھر حضرت رقیہ، پھر حضرت فاطمہ اور پھر حضرت ام کلثوم کی ولادت ہوئی۔ (امام ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 3، صفحہ 125)
حضرت خدیجہ کی نبی کریم ﷺ کی طرف سے اولاد یہ ہے: حضرت قاسم، طیب، طاہر جو بچپن میں ہی سب وفات پا چکے اور حضرت رقیہ، زینب، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔(سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ 114)
6۔ علم الانساب کی کتابوں کا انکار�
حضرت خدیجہ کے بطن مبارک سے حضور ﷺ کے شہزادے حضرات قاسم و طاہر اور حضرات فاطمہ، زینب، ام کلثوم اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہیں۔(علامہ مصعب زبیری (متوفٰی236 ھ)، نسب قریش، صفحہ 231)
نبی کریم ﷺ کی اولاد میں حضرت فاطمہ، زینب، رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں اور حضرت قاسم اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت ہے اور یہ آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں اور حضرت عبد اللہ اور یہی طیب ہیں اور ان کو طاہر بھی کہا جاتا ہے۔ (الاخوۃ والاخوات للدار قطنی، صفحہ 21 ،22)
نبی کریم ﷺ نے سیدہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد سے شادی کی ۔۔۔۔اور آپ سے نبی کریم ﷺ کے شہزادے حضرت قاسم پیدا ہوئے اور انہی کے نام سے آپ کی کنیت ہے ۔۔۔۔ اور (پھر ) آپ کی شہزادی حضرت زینب پیدا ہوئیں، جو حضور ﷺ کی تمام شہزادیوں میں بڑی ہیں اور پھر سیدہ خدیجہ ہی کے بطن سے حضور ﷺکے ہاں حضرت رقیہ کی ولادت ہوئی ۔۔۔۔اور پھر سیدہ خدیجہ ہی کے بطن سے حضور ﷺکے ہاں حضرت فاطمہ ﷺکی ولادت ہوئی۔ (علامہ احمد بن یحیٰی بلاذری (متوفیٰ 279 ھ)،انساب الاشراف للبلاذری، جلد 1 صفحہ 396 تا 402)
7۔اجماع امت کا انکار
بنات اربعہ پر تمام معتبرعلماء کااجماع اس بات پر منعقد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی چاربیٹیاں ہیں، وہ سب حضرت خدیجہ سے پیداہوئی ہیں اور ان کے نام زینب، رقیہ، ام کلثو م اور فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں ۔(امتاع الاسماع، جلد 5، صفحہ341)
سیدہ خدیجہ کے بطن سے نبی کریم ﷺ کی چار حقیقی شہزادیاں ہیں، سب نے اسلام کا زمانہ بھی پایا اور ہجرت بھی کی اور وہ حضرت زینب، فاطمہ، رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہن ہیں۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1818)
آپ ﷺ کی سیدہ خدیجہ سے چار بیٹیاں تھیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ (الاستيعاب فى معرفة الأصحاب محمد رسول اللہ، جلد 1، صفحہ50)
امام نووی شافعی لکھتے ہیں: نبی کریمﷺ کی چار حقیقی شہزادیاں ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا جن سے حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ نے شادی کی ۔۔۔۔اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عقد حضرت علی سے ہوا اور حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے جناب عثمان کے عقد میں آئیں یعنی پہلے آپ کی حضرت رقیہ سے شادی ہوئی ،پھر (ان کی وفات کے بعد ) حضرت ام کلثوم سے ہوئی۔۔۔۔اور بغیر کسی اختلاف کے نبی کریم ﷺ کی چار حقیقی شہزادیاں ہیں۔ (تهذيب الأسماء، فصل فى أبناء ه وبناته ﷺ، جلد 1، صفحہ26)�
علامہ زرقانی مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی چار حقیقی شہزادیاں ہیں: حضرت زینب، رقیہ، ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہن۔ سب نے اسلام کا زمانہ بھی پایا اور آپ کے ساتھ ہجرت بھی کی۔ (شرح الزرقانی علی المواھب، جلد 4، صفحہ 313)
8۔ اہلتشیع کی منگھڑت کتب میں بھی لکھا ہے جس سے منگھڑت دین والے ویسے ہی مُکر جاتے ہیں
نبی کریمﷺ نے حضرت خدیجہ سے بیس سال سے زائد عمر میں شادی کی۔ بعثت سے پہلے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے آپ کی اولاد حضرت قاسم، حضرت رقیہ، حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد حضرت طیب، حضرت طاہر اور سیدہ فاطمہ پیدا ہوئیں۔ (اصول کافی مترجم، جلد 3، باب مولد النبی،صفحہ 5، مطبوعہ کراچی)
�
قرب الاسناد میں امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک سے نبی کریم ﷺ کی یہ اولاد ہوئی: حضرت قاسم، طاہر ، فاطمہ، ام کلثوم، رقیہ، زینب رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (منتھی الآمال، جلد 1، فصل ثامن فی بیان احوال ابناء النبی، صفحہ 150، مطبوعہ دار الاسلامیۃ ،بیروت)
ملا باقر مجلسی کی کتاب "حیاۃ القلوب” میں ہے: اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر رحم فرمائے کہ اس کے بطن سے میری اولاد ہوئی : طاہر ، مطہر ، عبد اللہ، قاسم، فاطمہ، رقیہ، زینب اور ام کلثوم رضی اللہ عنہم اجمعین۔(حیاۃ القلوب، جلد 3، باب پنجم، صفحہ 218 ، 217 ،مطبوعہ انتشارات سرور)
9۔ چاروں بیٹیوں اور دامادوں کا ریکارڈ کا انکار
کتبِ احادیث، کتبِ سیرت میں بہت زیادہ ریکارڈ حضور ﷺ کی بیٹیوں اور دامادوں کے متعلق موجود ہے، پوسٹ اس کے لکھنے سے بہت لمبی ہو جائے گی، اس سب کا انکار حضور کی اولادوں کا انکار ہے۔
10۔ حضور ﷺ کی بیٹیوں کی پیدائش و نکاح کے سال کونسے تھے؟
پہلی بات: تمام کتابوں میں متفقہ طور پر چار بیٹیوں کا لکھا مل گیا تو اس پر ایمان لانا چاہئے، البتہ شیطان صفت دین والے شک پیدا کرتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کس کس سال کونسی بیٹی پیدا ہوئی۔ ان سے خود پوچھ لیں کہ بتا دو کہ اس وقت کونسا سال چل رہا ہوتا تھا جیسے عام الفیل، عام الحزن تھے تو ان عام میں کتنے دن، ہفتے، مہینے وغیرہ ہوتے تھے تو جواب نہ دے پائیں گے کیونکہ سالوں میں اختلاف رہے گا اور ہوتا ہے مگر بیٹیوں میں اختلاف کوئی نہیں۔
حقیقت: اہلتشیع حضرات کا دین اسلام نہیں ہے بلکہ یہ ایک منظم گروپ ہے جو قیصر و کسری کی فتح کے بعد اسلام کو متنازعہ بنانے پر لگا ہے اور اسمیں ہماری بھی غلطی ہے کہ ہم اہلسنت ایک نہیں ہیں بلکہ ہماری ساری توانائیاں آپس میں لڑنے کے لئے لگی ہیں۔ اہلتشیع ایک منگھڑت دین ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔