اہلتشیع اور سپورٹرز نام نہاد اہلسنت کی مکاریاں

اہلتشیع اور سپورٹرز نام نہاد اہلسنت کی مکاریاں

 

اہلتشیع کی ایک چال ہے، اہلسنت کی احادیث کی کتب سے، ایک حدیث نکالو، پراپیگنڈا کرو، اور عوام کو انگیج کرو، تاکہ عوام ان کے دو نمبر دین کے متعلق سوال نہ پوچھے کہ 14 اور 12 تقیہ، تبرا، بدا کے عقیدے والے نبی کریم ﷺ کے دور سے لے کر کربلہ تک کہاں انڈر گراونڈ تھے۔
صحیح مسلم 6628: حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ نے میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی ( مقصود پیار کا اظہار تھا ) اور فرمایا: ” جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔ "میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: ” جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔ "میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔
1۔ نبی کریم ﷺ نے کیوں بُلایا تو تمام احادیث کی کتب سے یہ بات ثابت ہو گی کہ کچھ لکھوانا چاہتے ہوں گے کیونکہ حضرت معاویہ کاتب وحی تھے۔
2۔ کیا سیدنا ابن عباس نے حضرت معاویہ کو نبی کریم ﷺ کا پیغام دیا؟ یا ان کو کھاتا دیکھ کر واپس آ گئے۔
3۔ نبی کریم ﷺ نے جسطرح سیدنا ابن عباس کو چپت لگائی، اسی طرح ان کے سامنے فرمایا: اللہ کریم اس کا پیٹ نہ بھرے۔
4۔ عرب ان الفاظ کو غیر ارادی طور پر استعمال کرتے ہیں جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ’’بعض احادیث میں (صحابہ کرام کے لیے) رسول اللہ ﷺ کی جو الفاظ منقول ہیں، وہ حقیقت میں بددعا نہیں بلکہ یہ ان باتوں میں سے ہے جو عرب لوگ بغیر نیت کے بطور ِ تکیۂ کلام کے طور پر بول دیتے ہیں جیسے:
۔۔ نبی اکرم ﷺ کا کسی کو فرمانا: ’تَرِبَتْ یَمِینُکَ (تیرا داہنا ہاتھ خاک آلود ہو)
۔۔ سیدہ عائشہ کو آپ ﷺ کا فرمانا: عَقْرٰی حَلْقٰی (تُو بانجھ ہو اور تیرے حلق میں بیماری ہو)
۔۔ یہ فرمانا: ’لَا کَبِرَتْ سِنُّکِ‘ (تیری عمر زیادہ نہ ہو)
— سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ ﷺ کا فرمانا:’لَا أَشْبَعَ اللّٰہُ بَطْنَہٗ‘ (اللہ تعالیٰ ان کا پیٹ نہ بھرے)۔ مزید صحیح بخاری 1561 اور ابوداؤد 332 کا مطالعہ کر لیں یا کمنٹ سیکشن میں دیکھ اور پوچھ لیں۔
5۔ امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا: امام مسلم رحمہ اللہ اس حدیث سے یہی سمجھے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس بد دعا کے کبھی بھی مستحق نہیں تھے تبھی اس روایت کو امام مسلم "صحیح مسلم، كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ میں 25 باب: جس پر آپ ﷺ نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی” میں لائے ہیں۔
علماء کرام کا اس حدیث کے متعلق وضاحت
1۔ امام ابن كثير رحمه اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں: آپ ﷺ کے خصائص میں سے یہ بھی ہے کہ آپ اگر کسی کو (سب) یعنی برا بھلا بولتے ہیں یہ اس کے لئے حقیقی معنی میں مراد نہیں ہوتا بلکہ یہ سب اس کے لیے ( گناہوں کا) کفارہ ہو جائے گا۔ (الفصول في سيرة الرسول ﷺ 385)
2۔ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ تعالیٰ اس طرح کی ایک عبارت کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس سے بددعا مراد نہیں ہوتی اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب کوئی شاعر عمدہ شعر کہے تو عرب لوگ کہتے ہیں : قَاتَلَہُ اللّٰہُ (اللہ تعالیٰ اسے مارے)، اس نے عمدہ شعر کہا ہے۔‘‘(شرح صحیح بخاری: 329/9)
3۔ اسی طرح ابن كثير رحمۃ اللہ علیہ ” البداية والنهاية ” میں فرماتے ہیں: یقیناً حضرت معاویہ نے اس دعا سے دنیا اور آخرت میں فائدہ لیا ہے۔ دنیا میں فائدہ یوں لیا کہ حضرت معاویہ جب شام کے امیر بنے تھے تو آپ ایک دن میں سات مرتبہ کھاتے تھے؛ انکے سامنے ایک بہت بڑا تھال لایا جاتا تھا جس میں بہت زیادہ گوشت اور پیاز ہوتا تھا پھر آپ اس سے کھاتے تھے اور آپ دن میں سات مرتبہ گوشت کھاتے تھے اور بہت زیادہ مٹھائی اور پھل کھاتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم میرا پیٹ نہیں بھرتا میں کھا کھا کے تھک جاتا ہوں اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس طرح کا معدہ انسان کے پاس ہو جس کے لیے بادشاہ شوق رکھتے اور ترستے ہیں۔
آخرت میں فائدہ اس طرح لیا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اس حدیث کے بعد ذکر کیا ہے جس کو بخاری وغیرہ نے بھی کئی اسناد سے کئی صحابہ کرام سے روایت کیا ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ میں ایک انسان ہوں جس کو بھی میں نے دنیا میں برا بھلا کہا ہے یا سزا دی ہے یا بد دعا دی ہے اور وہ اس کا اھل نہیں ہے تو اس بد دعا کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے اور اس کو قیامت کے دن تیرے پاس قریب ہونے کا سبب بنا دینا۔
صحيح مسلم 2601: اے اللہ میں انسان ہوں جس بھی مسلمان شخص کومیں نےبرا بھلا بولا؛ یا اس پر لعنت کی یا اسے سزا دی تو اس کو اس کے لئے گناہوں سے کفارہ اور رحمت بنا دے ایک روایت میں ہے کہ اس کے لیے اجر بنا دے۔
صحیح مسلم 6627: حضرت ام سلیم کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی ( ام سلیم) ام انس بھی کہلاتی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: تو وہی لڑکی ہے، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر بڑی نہ ہو۔ وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم کے پاس گئی، حضرت ام سلیم نے پوچھا: بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا: نبی کریم ﷺ نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی، یا کہا: اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا، حضرت ام سلیم جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: ام سلیم! کیا بات ہے؟ حضرت ام سلیم نے کہا: اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری ( پالی ہوئی) یتیم لڑکی کے خلاف بد دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ حضرت ام سلیم نے کہا: وہ کہتی ہے: آپ نے بد دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو، ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو رسول اللہ ﷺ ہنسے ، پھر فرمایا: ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے کہ میں ایک بشر ہی ہوں، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے۔
نتیجہ: دو نمبر دین اہلتشیع یا نام نہاد اہلسنت اسی طرح احادیث کی سپورٹ سے ثابت کریں کہ یہ شرح صحیح مسلم 6628 کی غلط کی ہے۔
We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general