بیعت حضرت ابوبکر

بیعت حضرت ابوبکر

 

مندرجہ ذیل روایات اہلسنت کی کتب سے ہیں جس میں سب صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر کی بیعت کر لی مگر کسی ایک نے بھی خلافت کے مقابلے میں مولا علی کی امامت کی بیعت نہیں کی بلکہ 14 اور 12 کے تبرا تقیہ بدا عقیدے والے اہلتشیع حضرات کا عقیدہ امامت منگھڑت ہے:
1۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انصار نے اختلاف کیا تو حضرت عمر نے فرمایا: حضرت ابوبکر سے آگے بڑھنے پر کس کا دل خوش ہو گا تو لوگوں نے کہا: ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ حضرت ابوبکر سے آگے بڑھیں۔ (سنن نسائی 778)
2۔ حضور ﷺ کی وفات کے دوسرے دن حضرت عمر نے واعظ کیا اور حضرت ابوبکر کو منبر پر بٹھایا، ایک جماعت سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت کر چکی تھی، اب باقی سب لوگوں نے بیعت کی۔(صحیح بخاری 7219)
3۔ سیدنا ابوبکر نے حضرت زبیر کے بارے میں پوچھا کہ وہ بھی یہاں دکھائی نہیں دے رہے۔ جب انھیں حضرت ابوبکر کا پیغام موصول ہوا تو وہ بھی ان کی بیعت کے لیے مسجد نبوی میں حاضر ہوئے۔ سیدنا ابوبکر نے پہلے ان کے امتیازات بیان کیے اور پھر بیعت کا کہا۔ اس کے بعد یوں گویا ہوئے: اے رسول ﷲ کے پھوپھی زاد اور رسول ﷲ کے حواری! آپ مسلمانوں کی جمعیت کو نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتے؟ حضرت زبیر نے بھی فوراً جواب دیا: اے خلیفہ رسول! ایسا تو کچھ بھی نہیں۔ پھر انھوں نے بھی آگے بڑھ کر حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔(الحاکم، المستدرک: 4514 و البیہقی، السنن 16538 )
4۔ حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللّٰہ عنہما حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کے پاس آئے تو سیدہ نے کہا: تم صحیح راہ کا انتخاب کرتے ہوئے پلٹ جاؤ۔ اس کے بعد یہ دونوں جب دوبارہ حضرت فاطمہ کے ہاں آئے تب دونوں حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے۔(أحمد بن حنبل، فضائل الصحابہ:364/1)
5۔ حضرت علی نے اپنے دور خلافت میں یہاں تک اعلان کروا رکھا تھا کہ جو بھی مجھے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللّٰہ عنھما پر فضیلت دے گا میں اسے بطورِ سزا بہتان طراز جتنے کوڑے لگاؤں گا۔(ابن أبی عاصم، کتاب السنہ: 1219و أحمد بن حنبل، فضائل الصحابہ: 294،83/1)
We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general