رجب کے روزے

رجب کے روزے

 

میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ سوچ کر جواب دینا کہ کونسا وقت ہے جس میں ہم جھوٹ بول سکتے ہیں، بیٹے نے جواب دیا کہ کوئی ایسا وقت نہیں جس میں ہم جھوٹ بول سکتے ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کونسا وقت ہے جس وقت اللہ کریم ہر انسان کی مدد نہیں کرتا، اس نے جواب دیا: ابو اللہ کریم 24 گھنٹے ہماری مدد کرتا ہے۔
بیٹے نے مجھ سے سوال کیا کہ ابو رجب کے روزے رکھنے چاہئیں یا نہیں؟ میں نے جواب دیا کہ عیدین اور ایام تشریق کے دن چھوڑ کر جب مرضی روزہ رکھ سکتے ہیں، دوسرا رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں ایک بھی روزہ نہ رکھیں تو کوئی گناہ نہیں۔ اُس نے کہا کہ نہیں ابو بات یہ نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ رجب میں روزے رکھنا خرافات ہیں کیونکہ کسی صحیح احادیث میں نہیں آیا۔
کتابیں: میں نے کہا کہ بیٹا دیوبندی، بریلوی و اہلحدیث حضرات کی احادیث کی کتابیں ایک ہیں۔ البتہ مسئلہ قانون سمجھنے کا ہے:
قانون: اہلسنت کا قانون ہے کہ "اصولِ حدیث کا یہ اصول ہے کہ اگر ضعیف حدیث متعدد طرق سے مروی ہو،تو وہ قوی ہوکر حسن لغیرہ کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔ بالفرض اس پر صرف ضعیف روایات ہی ہوتیں تو بھی روزے رکھنے کی ممانعت کا قول کرنا درست نہیں کہ تمام ائمہ حدیث کا اجماع ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف احادیث بھی معتبر ہوتی ہیں۔
اصول: اگر اہلحدیث حضرات اُس مجتہد کا نام بتا دیں جس نے یہ اصول اپنی مقلد عوام کو دیا کہ ہم صرف صحیح احادیث پر عمل کریں گے اور ضعیف احادیث کے خلاف محاذ بنائیں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا کیونکہ یہ قانون رسول اللہ، خلفاء کرام، امام بخاری میں سے کسی نے نہیں بنایا۔
رجب کے روزے کی صحیح حدیث
صحیح مسلم 2726: ‏‏‏ عثمان حکیم انصاری کے بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سعید بن جبیر سے ماہ رجب میں رجب کے روزوں کے متعلق پوچھا؟تو سیدنا سعید نے کہا: میں نے سنا ہے سیدنا ابن عباس سے کہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے: اب افطار نہ کریں گے اور افطار کرتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے تھے: اب روزہ نہ رکھیں گے۔
سیدنا عمر کا رجب کے روزوں سے روکنا اُس کا جواب:
مصنف ابن ابی شیبہ حدیث نمبر 9758: سیدنا خرشہ بن حر فرماتے ہیں،میں نے سیدنا عمرفاروق کولوگوں کوکھانے سے ہاتھ روکنے پرمارتے ہوئے دیکھا،یہاں تک کہ اُن کے لیے کھانا رکھ دیا جاتا (اورسیدنا عمر فاروق) فرماتے :’’کھاؤ‘‘ کیونکہ یہ وہ مہینہ ہے جس کی زمانہ جاہلیت میں تعظیم کرتے تھے۔
جواب: اس حدیث کا مطلب شارحین حدیث نے یہ بیان کیاہے کہ اگر کوئی شخص زمانہ جاہلیت کی طرح اس مہینے میں روزہ کوواجب جانتے ہوئے رکھے تو ممنوع ہے ورنہ نفلی روزہ منع نہیں۔ العلامۃ الشیخ علی بن سلطان محمدالقاری فرماتے ہیں: تو ممانعت کواس کے واجب ہونے کے اعتقاد پر محمول کیا جائے گا، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں تھا۔ (الادب فی رجب، صفحہ 39، المکتب الاسلامی، دارعمار، بیروت)
رجب کے فضائل میں احادیث
1۔ رَجَب کے روزہ داروں کےلئے جَنَّت میں ایک مَحَل ہے۔(شُعَبُ الایمان ج 3 ص 368 حدیث 3802)
2۔ جَنَّت میں ایک نَہْر ہے جسے ”رَجَب“ کہا جا تا ہے جو دُودھ سے زِیادہ سفید اورشہدسے زِیادہ میٹھی ہے تو جو کوئی رَجَب کا ایک روزہ رکھے تو اللہ کریم اُسے اُس نَہْر سے سَیْراب کرے گا۔ (شُعَبُ الایمان ج 3 ص367 حدیث 3800)
3۔ رَجَب کے پہلے دن کا روزہ تین سال کا کَفّارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دو سالوں کا اور تیسرے دن کا ایک سال کا کَفّارہ ہے، پھر ہر دن کا روزہ ایک ماہ کا کَفّارہ ہے۔ (الجامع الصَّغیرحدیث 5051 ص 311)
4۔ جس نے رَجَب کا ایک روزہ رکھا تو وہ ایک سال کے روزوں کی طرح ہوگا، جس نے سات روزے رکھے، اُس پر جہنَّم کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جا ئیں گے، جس نے آٹھ روزے رکھے اُس کےلئے جَنَّت کےآٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے، جس نے دس روزے رکھے، وہ اللہ کریم سے جو کچھ مانگے گا، اللہ کریم اُسے عَطا فرما ئے گا اور جس نے 15 روزے رکھے تو آسمان سے ایک اِعْلان کرنے والااِعلان کرتا ہے کہ تیرے پچھلے گُناہ بَخش دئیے گئے، پس تُو اَزْسرِ نَو عمل شُروع کر کہ تیری بُرائیاں نیکیوں سے بدل دی گئیں اور جو زائد کرے تو اللہ کریم اُسے اور زیادہ اجر دے گا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج 3 ص 368 حدیث 3801)
فرائض: یاد رکھیں کہ جو اپنی نمازیں اور روزے قضا رکھتے ہیں، ان کو چاہئے کہ پہلے اپنی فرض نمازیں اور روزے پورے کریں پھر نفل نمازیں اور روزے رکھیں۔ اگر فرائض پورے کرنے والے نفلی عبادت نہ بھی کریں تو کوئی گناہ نہیں، اگر کریں تو اجر ہے۔ (کمنٹ سیکشن میں دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی اہلسنت کے فتاوی موجود ہیں)
We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general