صحابی رسول حضرت معاویہ

صحابی رسول حضرت معاویہ

 

14 اور 12 کے تبرا، تقیہ، بدا، عقیدے والے اہلتشیع حضرات جو کربلہ تک انڈر گراؤنڈ تھے، نام نہاد اہلسنت جاہلوں کے ساتھ ملکر پراپیگنڈا کرتے ہیں جس سے عوام پوچھتی ہے کہ اس حدیث کی حقیقت کیا ہے:
مسند احمد 22339: حضرت عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت معاویہ کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا، پھر کھانا پیش کیا جو ہم نے کھایا، پھر پینے کے لیے شراب لائی گئی جسے پہلے حضرت معاویہ نے نوش فرمایا، پھر میرے والد کو وہ برتن پکڑا دیا تو وہ کہنے لگے کہ جب سے نبی ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے، میں نے اسے نہیں پیا، پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے زیادہ عمدہ دانتوں والا تھا، مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسان کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔
غلط فہمی: احادیث کے الفاظ کنفیوزڈ کر رہے ہیں اسلئے حضرت بریدہ کی روایت ایک اور حدیث کی کتاب میں پڑھ لیتے ہیں
ابن ابی شیبہ 30560: صحابیٔ رسول عبداللہ بن بریدہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد حضرت امیر معاویہ کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں چارپائی پربٹھایا، پھرہمارے سامنے کھانا لائے جسے ہم نے کھایا، پھرمشروب لائے جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے پیا، اس کے بعد حضرت معاویہ نے فرمایا: جوانی میں مجھے دودھ یا اچھی باتوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی اور چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی، اور آج بھی میرا یہی حال ہے۔
وضاحت: اسلئے حضرت معاویہ نے جو مشروب پیش کیا وہ دودھ تھا، البتہ سمجھنے میں:
پہلی غلطی: حدیث میں شراب کا ترجمہ اردو والے شراب سے کرنا غلط ہے کیونکہ اردو میں جسے شراب کہتے ہیں اس کے لیے عربی میں خمر کالفظ استعمال ہوتا ہے جیسے:
صحیح بخاری 3394: معراج شریف کی رات نبی کریم کا فرمان ’’پھر دو برتن میرے سامنے لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب یعنی خمر تھی۔
عربی عبارت یہ ہے:ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاء َيْنِ:فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ، جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ دونوں چیزوں میں سے آپ کا جو جی چاہے پیجئے۔ میں نے دودھ کا پیالہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسے پی گیا۔ مجھ سے کہا گیا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا (دودھ آدمی کی پیدائشی غذ ا ہے) اگر اس کے بجائے آپ نے خمر پی ہوتی تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی‘‘۔
بخاری شریف 3320: ”جب مکھی کسی کے شراب (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ) میں پڑ جائے تو اسے ڈبو دے اور پھر نکال کر پھینک دےکیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور اس کے دوسرے ( پر ) میں شفاء ہوتی ہے۔“
ترمذی 1895: سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ ’’شراب‘‘ (مشروب) ٹھنڈی اور میٹھی چیز تھی۔
وضاحت: اس لئے حدیث میں مشروب یعنی پانی، چائے، شربت، سالن سب کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ عربی زبان میں شراب کے لیے ’’خمر‘‘ کا لفظ آتا ہے نہ کہ ’’شراب‘‘ کا۔ جیساکہ قرآن میں بھی ہے ( انما الخمر والمیسر۔الخ)
ترمذی 2801: جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کا دور چلتا ہو جیسے عربی میں لکھا ہے: لا يجلس على مائدة يدار عليها بالخمر
وضاحت: صحابیٔ رسول عبداللہ بن بریدہ اور ان کے والد کو مشروب پیش کیا گیا جسے حضرت معاویہ نے بھی پیا، اگر وہ خمر ہوتی تو کسی بھی صحابی کا وہاں بیٹھنا جرم بن جاتا۔
الفاظ کا چناؤ: سیدنا عبد اللہ بن بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے باپ سیدنا معاویہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک مشروب لایا گیا، سیدنا معاویہ نے وہ پیا اور میرے ابا جان کو پکڑا دیا، ثُمَّ قَالَ: مَا شَرِبْتُہُ مُنْذُ حَرَّمَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌ﷺ، قَالَ مُعَاوِیَۃُ: پھر انہوں نے ( یعنی معاویہ نے کہا) : جب سے نبی کریم ‌ﷺ نے ( نشہ آور شراب کو ) حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، جب میں جوان تھا تو کوئی چیز ( میری اتنی پسندیدہ، متلذذ) ایسی نہیں تھی جس کو میں لذت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا جس طرح کہ میں اسکی لذت پاتا تھا علاوہ دودھہ کے یا وہ انسان بھی مجھے بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھے انداز میں بات کرتا ہے۔
راوی حدیث: شرابی کی سزا بیان کرنے والے خود حضرت معاویہ ہیں اور ان پر الزام لگانے والے کونسی حدیث کے راوی ہیں؟
ترمذی 1444: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ( شرابی ) جب شراب پئیں تو انہیں درے لگاؤ، پھر اگر پئیں تو درے لگاؤ، پھر اگر پئیں تو درے لگاؤ پھر اگر پئیں تو قتل کر دو۔
سورہ الانعام 70 اور سورہ یونس 04 نمبر آیات میں شراب من حمیم کا مطلب کھولتا ہوا پانی لیا گیا ہے نہ کہ خمر۔ سورہ دہر میں شراب طہورا کا مطلب بھی خمر نہیں ہے۔
نتیجہ: ایک حدیث کا سازشی بیانیہ نہ سُنا کریں بلکہ یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ صحابہ کرام پر گھناؤنے الزام لگانے والے مسلمان ہی نہیں ہیں۔
We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general