نماز تہجد

نماز تہجد

1

علماء اور اولیاء کرام سمجھاتے ہیں کہ ایک فرض نماز کی اہمیت ساری زندگی کی نفل نمازوں سے بہتر ہے جیسے لیلتہ القدر کی رات 84 سال کی عبادت سے بہتر ہے مگر ساری زندگی لیلتہ القدر کی رات عبادت نہ کی جائے تو کوئی گناہ نہیں مگر ایک فرض نماز کا چھوڑ دینے والا مُنکر ہے۔
اس کے علاوہ نماز جماعت سے پڑھنا واجب ہے، اگر تہجد کی نماز پڑھکر بندہ سو جائے اور جماعت سے نماز نہ پڑھے تو لازم ہے کہ تہجد چھوڑ دے اور جماعت سے نماز پڑھے کیونکہ پوری رات قیام کا ثواب ملے گا۔
�قرآن کی روشنی میں
النور 37: ( یہ وہ لوگ ہیں کہ) جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے، نہ نماز قائم کرنے اور نہ زکوٰۃ دینے سے۔
الم السجدۃ 16‪,‬ 17: اُن کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور اُمید (کے ملے جلے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے وہ اُس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں، چنانچہ کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان اُن کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔
الذاریات 17‪,‬18: وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔
الفرقان 64: اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو راتیں اِس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور (کبھی) قیام میں۔
الزمر 9: بھلا (کیا ایسا شخص اُس کے برابر ہوسکتا ہے ) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار سے رحمت کا اُمید وار ہے؟ کہوکہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں؟
طہ 13: اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دِن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہوجاؤ۔
المزمل 6: بے شک رات کے وقت اُٹھنا ہی ایسا عمل ہے جو جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔
المزمل 2: اے پیغمبر! تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک جماعت (ایسا ہی کرتی ہے)۔
بنی اسرائیل 79: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو جو تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے، اُمید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں ’’مقامِ محمود‘‘ تک پہنچائے گا۔
الدھر 36؛ رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کرو اور بہت رات تک اس (اللہ کی) تسبیح بیان کیا کرو۔
طور 49: اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھو اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی۔
احادیث کی روشنی میں
باجماعت نماز کا ثواب: جس نے عشاء جماعت سے پڑھی، گویا اس نے آدھی رات تک قیام کیا، اور جس نے عشاء اور فجر دونوں جماعت سے پڑھیں، اس نے گویا پوری رات قیام کیا ‪)‬ صحیح مسلم 1491، ابو داود 555، ترمذی 221)
تہجد فرض: سورہ بنی اسرائیل 79 کے مطابق نماز تہجد نبی کریم ﷺ پر فرض تھی, حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب آپ کی رات کی نماز بیماری یا کسی اور وجہ سے رہ جاتی تو دن کو بارہ رکعتیں پڑھ لیتے۔ (مسلم 1743)
افضل نماز تہجد: فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے (ابوداود 2429، صحیح مسلم 1742)
کامیاب وقت: بے شک رات میں ایک ایسی گھڑ ی ہے کہ جس مسلمان کو میسر آ جائے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخر ت کے بارے میں کوئی چیز طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے اور گھڑ ی ہر رات میں ہوتی ہے۔ ‪)‬مسلم 1771)
قبولیت: ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔ (صحیح بخاری 1145)
سونا ضروری: اللہ رحم کرے اس آدمی پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، پھر اپنی بیوی کو بیدار کرے، تو وہ (بھی) نماز پڑھے، اگر نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اور اللہ رحم کرے اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور تہجد پڑھے، پھر اپنے شوہر کو (بھی) بیدار کرے، تو وہ بھی تہجد پڑھے، اور اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے (نسائی 1611، ابن ماجہ 1336، ابوداود 1450)
المجم الکبیر میں صحابی رسول حجاج بن عمر بن غزیہ فرماتے ہیں "تہجد یہ ہے کہ بندہ قدرے سونے کے بعد نماز ادا کرے۔” رد المختار علی الدر المختار میں امام قاضی حسین شافعی فرماتے ہیں کہ اصطلاح میں سونے کے بعد نوافل پڑھنے کو تہجد کہتے ہیں۔ نماز عشاء پڑھ کر سونے کے بعد جب اور جس وقت اُٹھے، تہجد کا وقت ہے جو طلوع فجر تک رہتا ہے۔ اگر سویا نہیں تو تہجد نہیں ، اگرچہ نفل ضرور پڑھےکیونکہ وہ صلوۃ اللیل کے نفل کہلائیں گے۔
�آغاز: سول اللہ ﷺ جب رات کو (تہجد کیلئے) بید ار ہوتے تو اپنی نماز کا آغاز دومختصر رکعتوں سے فرماتے تھے۔‪)‬ مسلم 1806)۔
اجر ‪:‬جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے (سنن نسائی 1785)
ممانعت: جب تم میں سے کوئی شخص رات کو قیام کرے اور اس کی زبان پر قراءت مشکل ہوجائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے (صحیح مسلم 1836)
نور: جو شخص رات میں زیادہ نمازیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا (ابن ماجہ 1333)
نیت: تمام نوافل کھڑے ہو کر پڑھنے چاہئیں کیونکہ نبی کریم نے اشراق، چاشت، اوابین، تہجد کے نفل کھڑے ہو کر ادا کئے ہیں اور اس میں ثواب زیادہ ہے۔ نفل تہجد دو دو رکعت کر کے ادا کرنے چاہئیں کیونکہ چار اکٹھے نبی کریم نے نہیں ادا کئے۔ دو رکعت نفل تہجد کی دل میں نیت کرے اور اللہ اکبر کہہ کر شروع کر دے، یہ بہتر ہے کیونکہ نبی کریم نے کبھی زبان سے نیت نہیں کی، البتہ زبان سے نیت کرنا جائز ہے۔
رکعت: کم از کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ جتنی مرضی رکعتیں پڑھ سکتا ہے، چار، چھ، آٹھ، دس، بارہ تک۔ "حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبیﷺ رات کی نماز (تہجد) دو دو رکعت کر کے پڑھا کرتے تھے۔ (متفق علیہ)” البتہ ان سب رکعتوں میں کوئی مخصوص سورتیں نہیں پڑھتے بلکہ جو مرضی پڑھیں، جتنا زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھ سکتے ہیں ضرور پڑھیں۔ "حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کون سی نماز افضل ہے تو آپ نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ (مسلم)”
We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general