
سب و شتم
14 اور 12 تقیہ، تبرا، بدا عقیدے والے اہلتشیع حضرات جو نبی کریم کے دور سے لے کر کربلہ کے بعد تک انڈر گراونڈ تھے، جن کے پاس رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی کتب نہیں ہیں بلکہ امام جعفر و باقر کے اقوال کو اپنے لئے حجت مانتے ہیں، وہ اہلسنت کی کتب سے اپنی مرضی کی احادیث لے کر اس کا مطلب اپنی مرضی کا لے کر جاہل عوام کو گمراہ کرتے ہیں حالانکہ قرآن و سنت کے خلاف ہیں جیسے:
سورہ جمعہ 2: "وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
سوال: کیا نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو پاک نہیں کیا؟ ان کو حکمت و دانائی عطا کی یا نہیں؟ جیسے سورہ احزاب 33 میں اہلبیت کے لئے بھی یہ الفاظ ہیں: "اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دُور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے۔”
نتیجہ: اہلبیت اور صحابہ کرام کے لئے پاک صاف، محفوظ، مغفور کی اصطلاح استعمال ہو سکتی ہے مگر آیت تطہیر، مباہلہ پڑھ کر بھی معصوم کی اصطلاح استعمال نہیں ہوگی۔
2۔ قریش کی عزت کے لئے، قرآن مجید کی ایک سورت کا نام ہی قریش ہے۔ ترمذی 3605: اللہ کریم نے سیدنا ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت اسماعیل کا انتخاب فرمایا اور حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے بنی کنانہ کا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنی ہاشم میں سے میرا ﷺ انتخاب فرمایا۔
قبیلہ قریش کی بڑی بڑی شاخیں یہ ہیں:(1) بنو ہاشم (2) بنو امیہ (3) بنو نوفل (4) بنو عبدالدار (5) بنو اسد (6) بنو تمیم (7) بنو مخزوم (۸) بنو عدی (9) بنو عبد مناف (10) بنو سہم ہیں اور سیدنا ابوبکر صدیق کا بنو تمیم، سیدنا عمر فاروق کا بن عدی، سیدنا عثمان اور حضرت معاویہ کا تعلق بنو امیہ اور سیدنا علی و حسن و حسین کا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے ہے۔
سوال: کبھی مسلمانوں نے سوچا کہ کیا بنو امیہ کو گالیاں دراصل سورہ قریش اور قبائل قریش کو گالی نہیں ہے؟؟
نتیجہ: قرآن و احادیث کے خلاف چلنے والا گروہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔
پوائنٹ 3: سورہ توبہ 100 "اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے”۔
سوال: اللہ کریم نے جن کو رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ فرمایا اور نبی کریم ﷺ نے جن کے نام لے کر فضائل بیان کئے ہیں۔ ایسی جماعت جو صحابہ کرام کے فضائل بھی بیان نہ کرے، اُلٹا قرآن و احادیث میں "اصحاب” لفظ کی مختلف قسمیں نکال کر، صحابہ کرام پر سورہ منافقون کو فٹ کرکے، مسلمانوں میں صحابہ کرام کے متعلق غلط فہمی پیدا کرے، کیا نبی کریم ﷺ سے عداوت رکھنے والا گروہ نہیں ہے؟
نتیجہ: اہلبیت اور صحابہ کرام کے فضائل بیان کرنا حق ہے اور جن کی کتابوں میں صحابہ کرام کے فضائل نہیں بلکہ چند کے سوا سب صحابہ کرام کو مسلمان نہ سمجھنے والے خود مسلمان نہیں۔
4۔ کیا ان تمام اختلافات پر جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کے درمیان نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد ہوئے خاموش رہنا بہتر تھا یا اس کو اچھال کر اور مسلمانوں کو الجھا کر بے وقوف جاہل عوام کو اسلام، احادیث، صحابہ کرام سے متنفر کرکے نبی کریم ﷺ سے عداوت کرنا تھا؟
5۔ حضرت معاویہ 163 احادیث کے راوی ہیں جن میں 4 متفق علیہ ہیں، 4 صحیح بخاری اور 5 صحیح مسلم میں ہیں۔ کتبِ ستہ میں حضرت معاویہ سے مروی روایات کی تعداد ساٹھ (60) ہے۔
نتیجہ: عوام کو علم ہونا چاہئے کہ محدثین کسی جھوٹے، خائن، فاسق، باغی، قاتل سے روایات نہیں لیتے تو حضرت معاویہ نے ان کو کیا سمجھ کر روایات لی ہیں؟ اگر ایک راوی غلط ہو گا تو باقی راوی کی کون مانے گا؟ اسلئے احادیث کو بیان کرنے والے راوی کو مشکوک بنانا حضور ﷺ کی تعلیم کو مشکوک بنانا ہے۔
سب و شتم: مسلم 6220 کی سب و شتم والی روایت کو قانون و اصول سے ہٹ کر بیان کرتے ہیں حالانکہ حضرت معاویہ نے سیدنا سعد کو کہا: آپ کو اس سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابوتراب (سیدنا علی) کو (أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ) برا کہیں۔ اُس پر انہوں نے بڑا پیارا جواب دیا۔ البتہ اگر عربی لفظ سب کا معنی گالی ہے تو پہلے چند صحیح احادیث میں جہاں عربی لفظ ”سب“ لکھا ہے اس کو پڑھ کر فیصلہ کرتے ہیں:
بخاری4033: سیدنا علی اور سیدنا عباس یعنی چچا اور بھتیجا دونوں سیدنا عمر کے پاس باغ فدک کا مسئلہ حل کروانے کے لئے تشریف لائے اور حدیث کے الفاظ ہیں (فاستب علی و عباس) یعنی سیدنا علی اور عباس ایک دوسرے پر ”سب“ کر رہے تھے۔
مسلم 5947: تبوک کے چشمے پر دو بندے پہلے پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اس کے پانی میں ہاتھ لگایا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، تو آپ ﷺ نے ان کو (فسبهما النبي ﷺ) ”سب“ کیا اور اللہ کریم کو جو منظور تھا وہ ان کو سنایا۔
تشریح: اگر سب کا معنی گالی نکالنا ہے تو پھر یہ الزام سیدنا علی و عباس اور حضور ﷺ پر بھی لگے گا اور جو لگائے گا وہ بے ایمان ہے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی بے ایمان ہیں جو بغیر علم کے ”سب“ کا معنی گالی کر کے مسلمانوں کو صحابہ کرام کے خلاف کر کے گمراہ کر رہے ہیں۔ اب عربی لفظ”سب“ کا استعمال حدیث سے دیکھتے ہیں:
صحیح بخاری 2411: مسلمانوں میں سے ایک شخص اور یہودیوں میں سے ایک شخص نے ایک دوسرے کو (استب رجلان) ”سب“ کیا، اب وہ ”سب“ والے جملے کیا تھے؟ مسلمان نے کہاکہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور یہودی نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے موسی علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے۔ کیا ان جملوں کو کوئی مسلمان گالی کہہ سکتا ہے؟
حقیقت: اسلئے ان سب احادیث میں ”سب“ کا معنی تنقید کرنا اور دلائل کے ساتھ ایک دوسرے کا رد کرنا بنتا ہے۔ اسلئے مسلم 6220 کی شرح میں امام نووی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: حضرت معاویہ نے سیدنا سعد سے کہا کہ کیا مسئلہ ہے کہ آپ سیدنا علی کی رائے اور اجتہاد کو خطاء قرار نہیں دیتے؟ اور لوگوں کے سامنے ہماری رائے اور اجتہاد کی اچھائی ظاہر نہیں کرتے؟ کیوں بیان نہیں کرتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خطاء پر ہیں؟ اسلئے جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جب انکار کر دیا تو حضرت معاویہ نے سیدنا سعد نہ کوئی سختی کی، نہ مجبور کیا بلکہ خاموش ہو گئے۔
آخری بات: ترمذی 3842 نبی اکرم ﷺ نے سیدنا معاویہ کو یہ دُعا دی: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“۔ کیا ایسا غلام اہلبیت کو گالیاں دے گا نعوذ باللہ۔ صحیح بخاری 447، حدیث عمارکو گھما کر سیدنا معاویہ کے خلاف سُنانے والے کبھی صحیح بخاری 2924، 2799، 2800، 6282، 6283 میں اللہ کی راہ میں بحری بیڑے میں سیدنا معاویہ کو بھی شامل کر لیا کریں۔
خلاصہ کلام: مشاجراتِ صحابہ (یعنی صحابہ کرام کے اختلافات اور لڑائیاں) ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے، اس معاملے میں جس قدر احتیاط کی جائے وہی بہتر ہے کہ اس نازک موضوع کو چھیڑ کر کسی ایک صحابی کو مجرم قرار ہر گز نہ دیا جائے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ پھر یہ سب کچھ احادیث میں کیوں آیا تو جناب محدثین کا کام احادیث اکٹھا کرنا تھا اور مجتہدین کا کام سمجھانا تھا نہ کہ عوام کو آپس میں لڑانا۔