
واقعہ تحکیم
صحیح بخاری، غزوات کے بیان میں، باب ہے "غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے”۔
صحيح بخاری 4108: حضرت عبداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ میں سیدہ حفصہ (رسول اللہ کی بیوی، سیدنا عمر کی بیٹی اور سیدنا عبداللہ بن عمر کی بہن) کے ہاں گیا، ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی۔ سیدہ حفصہ نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ، لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے۔ آخر سیدہ حفصہ کے اصرار پر عبداللہ بن عمرگئے۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔ یقیناً ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی (جواب دینے کو تیار ہوا) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے (صبر کرنے والوں کے لیے) جنت میں تیار کر رکھی ہیں۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے، آفت میں نہیں پڑے۔
سیاق و سباق: سیدنا علی اور حضرت معاویہ کے درمیان لڑائی میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے تو فیصلہ ہوا کہ قرآن و سنت کے مطابق حل نکالتے ہیں تو اس پر تمام اکابر صحابہ کی میٹنگ کال کی گئی تاکہ فتنہ ختم ہو۔ یہ مسئلہ خلافت کا نہیں بلکہ قصاصِ عثمان کا تھا۔
1۔ علامہ عینی شرح بخاری میں لکھتے ہیں: حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) کو برقرار رکھتا ہوں کیونکہ وہ حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) کا ولی ہے، ان کے خون کا مطالبہ کرنے والا ہے اور اس معاملے (یعنی قصاص) کا زیادہ حقدار ہےتو معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے تقریر کرکے کہا کہ جو اس قصاص کے معاملے میں ہم سے بحث کرنا چاہتے ہیں ہم اس میں ان سے زیادہ حقدار ہیں۔
2۔ علامہ جوینی کہتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اگرچہ حضرت علی سے لڑائی کی لیکن انہوں نے کبھی بھی نہ ان کی خلافت کا انکار کیا اور نہ ہی کبھی اپنے لئے خلافت کا دعوی کیا، بس وہ تو حضرت عثمان کے قاتلوں کو چاہتے تھے اور یہی ان سے خطا ہوئی۔ لمع الأدلة في عقائد أهل السنة للجويني، ص:115)
3۔ دو مشہور صحابہ ابودرداء اور ابوامامہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم معاویہ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی کررہے ہیں جبکہ ان کا اسلام مقدم، ان کا مرتبہ آپ سے بلند، اور وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں… تو معاویہ رضی اللہ نے جواب دیا کہ ہماری لڑائی قصاص عثمان پر ہے کیونکہ قاتلین عثمان ان کے پاس ہیں، بس وہ ان سے بدلہ لے لیں پھر سب سے پہلے میں بیعت کرونگا. ( ويورد ابن كثير في البداية والنهاية (7/360)، عن ابن ديزيل [هو إبراهيم بن الحسين بن علي الهمداني المعروف بابن ديزيل الإمام الحافظ (ت 281 ه) انظر: تاريخ دمشق (6/387) وسير أعلام النبلاء (13/184-192) ولسان الميزان لابن حجر (1/48)] بإسناد إلى أبي الدرداء وأبي أمامة رضي الله عنهما)
4۔ ابن حجر ہیتمی لکھتے ہیں: حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھما کی لڑائی خلافت کے معاملے پر نہیں تھی کیونکہ اس کے حقدار تو بالاتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے، دراصل لڑائی کی وجہ قصاص عثمان تھی ( الصواعق المحرقة (ص: 325)
5۔ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی حضرت علی کی زندگی میں نہ تو خلافت کا دعوی کیا اور نہ ہی اس پر لوگوں سے بیعت لی (مجموع الفتاوى:35/72)
6۔ عربی عبارت پڑھیں اور نیچے کی تشریح دیکھیں
: ۔۔ عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ وَنَوْسَاتُهَا تَنْطُفُ , قُلْتُ: قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ , فَقَالَتْ: الْحَقْ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ , فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ , قَالَ: مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ , قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ , فَخَشِيتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ , فَذَكَرْتُ مَا أَعَدَّ اللَّهُ فِي الْجِنَانِ , قَالَ حَبِيبٌ: حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ. قَالَ مَحْمُودٌ: عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: وَنَوْسَاتُهَا
1۔ عربی عبارت "قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ” کا سادہ سا ترجمہ بنتا ہے "میں تو حکومت میں ہوں ہی نہیں، مجھے کیوں اس مسئلے میں لوگ ڈال رہے ہیں”۔
2۔ عربی عبارت "مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ” میں خلافت کا ذکر ہی نہیں ہے، نہ جانے ترجمہ کرنے والوں نے ھذا الامر کا ترجمہ کیوں کیا حالانکہ پوری حدیث میں خلافت کا لفظ موجود نہیں ہے؟
3۔ عربی عبارت "فَلْيُطْلِعْ لَنَا قَرْنَهُ” کا سادہ سا ترجمہ "اے صحابہ سر اُٹھا کر بات تو کرو کہ کیا ہم حقدار نہیں ہیں”؟
4۔ عربی عبارت فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ، اس کا ترجمہ کرنے والوں نے پھر یہ کر دیا کہ "ہم اس سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں”
5۔ عربی عبارت: مِنْهُ وَمِنْ أَبِيهِ ترجمہ: اس سے اور اس کے باپ سے بھی زیادہ کے الفاظ کس کے لئے اور کس کے باپ کے لئے بولے گئے، حدیث کچھ نہیں بتا رہی؟ کیونکہ حدیث عبداللہ بن عمر بیان کر رہے ہیں اور حضرت معاویہ کو حضرت عمر اور عبداللہ بن عمر سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
عربی عبارت: قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ: فَهَلَّا أَجَبْتَهُ ترجمہ: حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا؟ سادہ ترجمہ: کیا آپ نے اس کی بات کا جواب دیا؟
عربی عبارت: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَلَلْتُ حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنے لنگی کھولی اور ارادہ کر چکا تھا کہ جواب دوں۔
عربی عبارت: أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى الْإِسْلَامِ ترجمہ: تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے لڑائی کی تھی۔
سادہ ترجمہ: اس مسئلے میں حقدار وہی ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لئے لڑائی کی۔
یہاں بھی حضرت عمر یا حضرت عبداللہ بن عمر نہیں کیونکہ حضرت معاویہ کی ان دونوں سے لڑائی کبھی ہوئی نہیں۔
خلاصہ تحقیق: قتل سیدنا عثمان پر دو بڑی لڑائیاں ہو چُکی تھیں اور جب یہ صُلح کی باری آئی تو سیدنا عبداللہ بن عمر کہنا یہ چاہتے تھے کہ میرے نزدیک قصاص عثمان لینے میں بھی خلیفہ سیدنا علی زیادہ حقدار ہیں، جن کی تیرے اور تیرے باپ کے ساتھ لڑائی ہو چُکی ہے، مگر اسلئے نہیں بولے کہ صُلح ہو رہی ہے، کہیں میری وجہ سے دوبارہ لڑائی شروع نہ ہو جائے۔
پراپیگنڈا: 14 اور 12 معصوم، تقیہ، تبرا و بدا کے عقیدے والے رسول اللہ کے دور سے لے کر کربلہ تک نہیں تھے۔ یہ دین بہت بعد میں کتب اربعہ سے بنایا گیا۔ نام نہاد اہلسنت ان کو اہلبیت کا محب ثابت کرنے کے لئے ایسی احادیث سے غلط پراپیگنڈا کرتے ہیں حالانکہ ہر حدیث کی شرح کے اصول موجود ہیں۔