
وسیلے کا شرک
1۔ حضور ﷺ کی احادیث میں اللہ کے سوا کسی کی”قسم“ کھانے سے منع کیا گیا ہے لیکن توسل، استمداد اور استغاثہ (زندہ یا مُردہ)کی مندرجہ ذیل احادیث سے حضور ﷺ نے منع نہیں کیا:
ترمذی 3578 اور ابن ماجہ 1385: عثمان بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص حضورﷺ کے پاس آیا اور کہا: آپ دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے عافیت دے، آپ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں دعا کروں اور اگر چاہو تو صبر کیے رہو، کیونکہ یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر (و سود مند) ہے“۔ اس نے کہا: دعا ہی کر دیجئیے، تو آپ نے اسے حکم دیا کہ ”وہ وضو کرے، اور اچھی طرح سے وضو کرے اور یہ دعا پڑھ کر دعا کرے: «اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة إني توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى لي اللهم فشفعه» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیرے نبی محمد جو نبی رحمت ہیں کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، میں نے آپ کے واسطہ سے اپنی اس ضرورت میں اپنے رب کی طرف توجہ کی ہے تاکہ تو اے اللہ! میری یہ ضرورت پوری کر دے تو اے اللہ تو میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول کر۔
* اذا ضل احکم شیًاا واراددعونًا وھو بارضٍ لیس بھا انیس فلیقل یا عبدالله اعینونی یا عبادلله اعینونی یا عبادالله اعینونی،فان لله عبادًا لایراھم۔ جب تم میں کسی کی کوئی چیز گم جائے اورمدد مانگنی چاہے اور ایسی جگہ ہوجہاں کوئی ہمدم نہیں تو اسے چاہئے یوں پکارے: اے الله کے بندو!میری مدد کرو،اے الله کے بندو!میری مدد کرو،اے الله کے بندو!میری مدد کرو۔الله تعالٰی کے کچھ بندے ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔وہ اس کی مدد کرینگے۔ (طبرانی نے عتبہ بن غزوان رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔)
** جب جنگل میں جانور چھوٹ جائے فلیناد یا عبدالله احبسوا تو یوں ندا کرے: اے الله کے بندو!روك دو۔عباد الله اسے روك دیں گے۔(ابن السنی عن ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ روایت کیا۔ (عمل الیوم واللیلۃ حدیث ۲۰۸دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد دکن ص۱۳۶)
*** اعینونی یا عباد الله ۔ابن ابی شیبۃ میری مدد کرو اے الله کے بندو!(ابن ابی شیبہ اوربزار نے ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔)
سوال: کیا وسیلہ زندہ یا وصال کر جانے والوں کا ڈالے بغیر اللہ کریم سے دُعا کی جائے تو قبول ہو جائے گی؟ اگر ہو جائے گی تو پھر لڑائی کیا ہے؟
2۔ پیری مریدی، دم درود، تعویذ دھاگے، میلاد، ایصالِ ثواب، عرس، توسل، استمداد، استغاثہ کو اہلسنت علماء کرام نے فرض، واجب، سنت موکدہ نہیں بلکہ مستحب رکھا لیکن سعودی وہابی علماء نے ان سب اعمال کو شرک و بدعت قرار دیا جس کا مطلب ہوا کہ اگر اہلسنت کے نزدیک یہ سب اعمال نہ کئے جائیں تو کوئی گناہ نہیں اور سعودی وہابی علماء کے نزدیک کئے جائیں تو بدعت و شرک ہے۔
نتیجہ: اہلسنت اور وہابی علماء کے نزدیک یہ سب اعمال نہ کرنے والے مسلمان ہیں مگر دونوں جماعتیں علمی مذاکرات کر کے اکٹھی نہیں ہوں گی بلکہ قادیانی، رافضی، منکر احادیث وغیرہ اس وجہ سے پروموٹ ہو رہے ہیں کہ ہمارا زور ایک دوسرے کو بدعتی و مشرک ثابت کرنے میں لگ رہا ہے۔
بے بسی: مسلمانوں میں اتحاد کے لئے سوال کریں تو کہتے ہیں کہ فرقہ واریت پھیلاتے ہیں حالانکہ دارالافتاء سے فتوی نہ دیا جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہو گا سب کو معلوم ہے:
دیوبندی و بریلوی سے سوال: ہمارے نزدیک دیوبندی اور بریلوی دنوں خلافت عثمانیہ، چار مصلے والے ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بغیر علمی مذاکرات کے بدعتی و مُشرک کہا اور اس کے ساتھ ساتھ دیوبندی اور بریلوی کا اصولی اختلاف چار کفریہ عبارتیں ہیں، اگر دیوبندی سعودی عرب کے وہابی علماء کے ساتھ ہیں تو پھر دیوبندی اہلسنت نہیں بلکہ وہابی ہیں جنہوں نے دیوبندی و بریلوی سمیت سب اہلسنت کو بدعتی و مُشرک کہا۔
اہلحدیث سے سوال: حضورﷺ نے کسی ایک انداز میں نماز تمام صحابہ کرام کو صحیح احادیث کے مطابق نہیں سکھائی، اسلئے چار ائمہ کرام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) نے قرآن و سنت کے مطابق حضور ﷺ کی اتباع میں چار انداز میں نماز سکھائی مگر اہلحدیث جماعت سے سوال ہے کہ کس دور میں کس ”امام“ نے صحاح ستہ سے پوری اہلحدیث جماعت کو نماز سکھائی، اس کا نام بتا دیں ورنہ تقیہ باز ہو۔
رافضیت: اہلتشیع بے بنیاد مذہب اسلئے ہے کہ قرآن و سنت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اہلتشیع کا تعلق نہ تو صحابہ کرام سے ہے جنہوں نے قرآن اکٹھا کیا اور نہ ہی اہلبیت (حضرات علی، فاطمہ، حسن و حسین و دیگر امام رضی اللہ عنھم) کا تعلق ان کتابوں (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، استبصار) اور اہلتشیع علماء (زرارہ، ابوبصیر، محمد بن مسلم، جابر بن یزید، ابوبریدہ) سے ہے، اسلئے اہلتشیع ختم نبوت کے منکر اور ڈپلیکیٹ علی کے حوالے سے اپنے دین کی عمارت بے بنیاد بنا کر بیٹھے ہیں ورنہ حضور ﷺ سے سُن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور کی حدیث کن کن صحابہ اور صحابہ نے تابعین اور تابعین نے تابع تابعین کو سنائیں ان کے نام بتا دیں؟