Sahih Bukhari o Muslim Qanoon (صحیح بخاری و مسلم (قانون))

صحیح بخاری و مسلم (قانون)

1۔ دین جب مکمل ہوا تو اُس وقت قرآن کتابی شکل میں نہیں تھا اور نہ ہی صحیح اور ضعیف احادیث پر لڑائی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قرآن کو کتابی شکل میں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک قرات پر سب مسلمانوں کو اکٹھا کیا۔

2۔ صحابہ کرام مختلف شہروں میں پھیل گئے اور دین پھیلاتے رہے۔ اسلئے سب قرآن و سنت پر تھے اور کوئی بھی مالکی، شافعی، حنبلی، حنفی بالکل نہیں تھا۔ اہلحدیث جماعت بھی نہیں تھی اور صحیح بخاری و مسلم بھی موجود نہیں تھیں۔

3۔ پہلی دوسری صدی ہجری میں 81 احادیث کی کتابیں ملتی ہیں۔ دوسرا چار علماء حضرات نعمان بن ثابت (امام ابو حنیفہ 80 – 150)، مالک بن انس (93 – 179)، محمد بن ادریس (امام شافعی 150 – 204)، احمد بن حنبل (165 – 241) کے نام ملتے ہیں
4۔امام محمد بن اسماعیل (194 – 256 بخاری)، امام مسلم بن حجاج (204 – 261)، امام ابو داود (202 – 275)، امام محمد بن عیسی (229 – 279 ترمذی)، امام محمد بن یزید (209 – 273 ابن ماجہ)، امام احمد بن شعیب (215 – 303 نسائی) بعد میں آئے ہیں اور کوئی بھی ان کا ”مقلد“ نہیں کیونکہ یہ مختلف دور میں احادیث اکٹھا کرنے والے محدثین ہیں۔

تقلید: بخاری و مسلم کی احادیث کو جن علماء کرام نے”صحیح“ کہا، انہی علماء کرام نے ”تقلید“ کا قانون منظور کیا، اسلئے خلافت عثمانیہ چار مصلے اجماع امت کے دور میں ایک نماز چار امام (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) اپنی اپنی عوام کو کرواتے جس کو 1924 میں بدعت و شرک سعودی وہابی علماء نے کہا۔

قانون: اس پوسٹ کا ایک ہی سوال ہے کہ ہر جماعت کے کس مجتہد نے احادیث کی شرح کرنے کے اصول بنائے؟

غلط فہمی: اہلحدیث جماعت نے تقلید کے مسئلے میں ”صحیح احادیث“ کا نام لے کر عوام کو گمراہ کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ تقلید کو بدعت و شرک قرآن و سنت کے مطابق کس ”مجتہد“ نے کہا؟
مرزا انجینئر نے بھی صحیح احادیث کے نام سے عوام کو گمراہ کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ احادیث کی شرح کن اصولوں اور قانون پر کرتا ہے؟

اہلتشیع تو اہلسنت کی احادیث کی کتابوں میں عربی لفظ کے معنی بدل کر پراپیگنڈا کرتے ہیں اور دوسرا ان کی احادیث اور فقہ جعفر جھوٹی ہیں، احادیث کی بجائے بارہ امام کے جھوٹے اقوال ہیں۔

مستحب اعمال: عملی طور پر اذان سے پہلے درود، نماز کے بعد کلمہ، جمعہ کے بعد سلام، قبر پر اذان کو ”فرض“ سمجھنے والی عوام گمراہ ہے اوردُکھ یہ ہے کہ جو یہ اعمال نہیں کرتا اسکو دیوبندی اور وہابی بناتی ہے حالانکہ علمی طور پر یہ سب اعمال نہ بھی کئے جائیں تو اہلسنت کے قانون کے مطابق کوئی گناہ نہیں کیونکہ دیوبندی اور بریلوی ”اہلسنت“ نہیں بلکہ خلافت عثمانیہ والے ”اہلسنت“ علماء کرام ہیں جس کا ثبوت فتاوی رضویہ از جناب احمد رضا خاں سے ہوتا ہے۔

نتیجہ: اتحاد امت کے لئے کسی جماعت یا کسی عالم کی ذات پر اعتماد کا ووٹ لینا لازم نہیں ہے بلکہ دیوبندی اور بریلوی یہ اعلان کر دیں کہ دونوں جماعتیں خلافت عثمانیہ والی ہیں جن کو سعودی عرب کے وہابی علماء نے بدعتی و مشرک کہا اور دونوں کا اصولی اختلاف دیوبندی علماء کی چار کفریہ عبارتیں ہیں۔ دوسری صورت میں تفرقہ بازی سعودی عرب اور ایران کبھی ختم نہیں ہونے دے گا اور دیوبندی و بریلوی جماعتیں ان کی آلہ کار بن کر اہلسنت کی پہچان مٹا دیں گی۔

دعوت عام: ہر مسلمان کو دعوت عام ہے اور سر عام ہے کہ اپنی اپنی جماعت کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنی اپنی جماعت کی پہچان کر کے اپنی اپنی اصلاح کریں۔ اتحاد امت کا کوئی ایک پیج ہے تو بتایا جائے تاکہ دیکھیں کہ اتحاد امت کی کیا تجاویز ہیں۔ قیامت والے دن یہ شرمندگی نہیں رہے گی کہ علم تھا مگر سکھایا نہیں اورپیسہ تھا مگر دین پر لگایا نہیں۔ اللہ کریم ہماری کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply

Aik Ummat Banno
Logo
Enable registration in settings - general